Afsana ‘Dars’ by Sarfaraz Fatima Nashtar

Afsana ‘Dars’ by Sarfaraz Fatima Nashtar (Posted on February 28, 2011)

درس  [کہانی]

سیدّہ سرفراز فاطمہ نشتر خیرا بادی

مارچ کی اُجلی اُجلی صُبح تھی۔وجاہت علی اور زُبیدا بیگم اپنے اکلوتے بیٹے سعادت علی اور اُن کے دوست کریم الدین کا بے چینی سےانتظار کر رہے تھے بے   جو جوگگنگ کر کے واپس آنے والے تھے۔کُچھ ہی دیر میں ’’ اسلام علیکُم‘‘ کہتے ہو ئے دونوں بچّے ناشتے کی میز پر آ پہنچے ۔ ناشتے کےدوران وجاہت علی نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم سے کہا کہ ’’آپ کو یاد ہے ١٤ مارچ کو نور چشم لختِ جِگر سعادت میاں کی  تیرھویں یوم سالگرِ ہ ہے۔ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی انشاءاللہ ہم بڑی دھوم سے اِس تقریب کو منایئں گے۔آپ آج ہی سے اِس کے انتظامات شروع کر دیجئے‘‘۔

زبیدہ بیگم نے اپنے بیٹے کوپیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے شوہر کو جواب دیا۔’’ جی ضرور! ضرور!!‘‘ سعادت علی نے اپنے والدین کی گُفتگو سُن کر مودبانہ عرض کیا ’’ ابو جان ! اگر آپ کی اجازت ہوتو اِس سِلسلہ میں میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں ویسے آپ دونوں کا حکم سر آنکھوں پر ہے‘‘۔ وجاہت علی نے کہا’’ ہاں ہاں بیٹے ضرور کہیے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘۔

سعادت علی نے کہا ’’ ابو جان ! کیوں کہ اب میں بڑا ہو گیا ہوں اِس لئے میرے سوچنے کا انداز بھی بدل گیا ہے۔آج دُنیا میں لاکھوں بچّے غریبی،بد حالی اور یتیمی کی زندگی گُزار رہے ہیں جِن کے سر وں پر نہ چھت ہےاور نہ سا یئبان،جِن کو نہ غذا نصیب ہے اور نہ دوا۔ ایسی صورت میں میں اپنے امیر ترین دوستوں کے ساتھ ایک بہت بڑا کیک بنواکر اور سب کو ایک بہترین دعوت دے کر اپنی سالگرہ کا جشن مناوں یہ میرے دِل کو ہر گزِ گوارہ نہیں ہوتا۔ ابو جان میں اپنی سالگرہ کے دِن درس  کا اِہتمام کرنا چا ہتا ہوں جِس میں بچّے ہی شِرکت کریں اور بچّے ہی حصہ لیں۔

اِس موقع پر تمام بچّوں کے لئے بہترین دعوت کا اِنتظام کیا جائے۔درس میں میرے سب دوستوں کے علاوہ مدرسے کے تمام غریب بچّے بھی شِرکت کریں گے،جِن کو ہر سال اپنی سالگرہ پربہت سی چیزیں توتقسیم کرتا ہوں لیکِن اُنہیں شِرکت کی دعوت کبھی نہیں دیتا۔ وہ سب میرے دینی بھائ ہیں میں اُنہیں بھی شریک کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

بیٹے کی باتیں سُن کر وجاہت علی اور زبیدہ بیگم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گیئں اور مُنہ سے نِکلا آفریں صد آفریں!!بولے ’’ بیٹے آپ کی پیش کش بہت ہی خوب ہے ہمیں بہت پسند آئ۔ خُدا آپ جیسی سعادت سب کو نصیب فرمائے‘‘۔[آمین]

سعادت علی نےاپنے والدین کے ہاتھوں کو پیار سے بوسہ دیا آنکھوں سے لگایا اور شکر ادا کرکے اپنے دوست کریم الدین کو لے کر اپنے کمرے  میں چلے گئے سب ے پہلے سعادت علی نے اپنے تمام دوستوں کو فون کئے اور اُنہیں دَرس میں آنے کی دعوت دی۔ کریم نے ایک خط لِکھ کر مولوی صاحب کے نام مدرسے بھیجا تاکہ وہ درس میں شِرکت کے لئےتمام بچّوں کو مطلع کر دیں اور درس کی تاریخ سے بھی آگاہ فرمادیں۔

سعادت علی نے مینیو کی لِسٹ اپنے خانساماں لطیف میاں کو دے کر دعوت کا پورا انتظام اُن کے سپرد کر دیا۔حویلی کا وہ  ہال جِس میں  میلاد شریف اور شعری نشتوں کا اہتمام کیا جاتا تھا درس کے لئے منتخب کر لیا اور صفائ اور سجاوٹ کا کام وصی الدین کو سونپ دیا۔ منی بس ڈرایئور نور محمد کو بلا کر سعادت علی نے تا کید کر دی کہ درس کے دِن کے ذریعے مدرسے سے بچّوں کو لانے اور پہچانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔

14مارچ کا وہ پر مسرت دن بھی آپہنچا جِس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا۔وجاہت علی اور زبیدا  بیگم نے چہل قدمی کرتے ہوئے ہال کا جائزہ لیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ تمام ہال رنگ برنگ کی روشنیوں سے جگمگا رہا ہے اور خوشبووں سےمعطر ہے۔

سعادت علی  اور کریم الدین کا جوش و خروش دیکھنے لا ئق تھا۔دونوں دوست سِلک کے سفید لکھنوی کُرتے پاجامے  میں   مَلبوس سروں پر لکھنوی ٹو پیاںٗ کارچوبی واسکٹیں اور سلیم شاہی جوتیاں پہنے ہوئے دروازے پر کھڑے آنے والے تمام بچّوں کا بڑی گرم جوشی سےمصافہ کرتے ہوئے خیر مقدم کر رہے تھے۔

جب تمام بچّے آگئے تو سعادت علی نے مایئک لیتے ہوئے کہا’’اسلام علیکم‘‘ سارے ہال میں ’’ وا علیکم اسلام‘‘ کی صدا گونج  اُٹھی۔ سب بچّوں کو مخاطب کرتے ہوئے سعادت علی  نے کہا۔

’’ میرے عزیز دوستوں اور دینی بھایئوں! آج میری یوم سالگرہ  ہے۔اس بات کی اطلاع  آپ لو گوں کو پہلے اس لئے نہیں دی گئ کہ میں تحائف لینے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ ہر خوشی اللہ اور اُس کے رسولؑ کے ذِکر سے مبارک ہوتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنی سالگرہ کے موقع پر درس کا اہتمام کیا ہے۔

سارے بچّوں نے ایک آواز ہوکر کہا ’’ مبارک ہو ‘‘مبارک ہو ‘‘ سعادت علی نے شکریہ کہہ کر سب کے جذبات کا  خیر مقدم کیا اور درس کی کاروائ شرع کی۔انہونے سب سے پہلےحافظ جی کے بیٹے عابد علی کو کلام پاک کی تلاوت کے لئے دعوت دی۔ جیسے ہی تلاوت شروع ہوئ سب بچّوں نے اپنی اپنی ٹوپیاں اپنے سروں پر رکھ لیں۔تلاوتِ کلام پاک کے بعد سعادت علی نے کریم کا نام حمد باری تعالیٰ کے لئے ُپکارا۔ کریم نے آکر انور فرخ آبادی کی حمد پیش کی۔

اللہ بہت بڑا ہے/ قرآن میں لِکھا ہے / اللہ بہت بڑا ہے / کتنا کریم ہے وہ

کتنا رحیم ہے وہ / اے بدنصیب بندے / تُجھ کو خبر نہیں ہے

اُس کے کرم پہ گویا / تیری نظر نہیں ہے / انسان ہوش میں آ

نادان ہوش میں آ / کر لے خطا سے توبہ / وہ تجھ کو بخش دے گا

مایوس کیوں کھڑا ہے / اللہ بہت بڑا ہے

ہال میں بیٹھے ہوئےتمام بچّوں نے دھیمے سروں میں کریم کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائ۔ حمد باری تعالیٰ کے بعد سعادت علی نے بچّوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

پیارے دوستوں

اللہ اور اُس کے رسولؐ کے بارے  میں ہم بچّے اِتنا تو نہیں جانتے جِتنا ہمارے مولوی صاحب’حافظ جی‘ ہمارے بزرگ اور والدین جانتے ہیں۔آج ہم سب بچّےاِس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ ہم  لوگ اللہ کا ذِکر پاک کریں اور اپنی معلومات میں اِضافہ کریں۔

اللہ ایک ہے اور حضرت محمدﷺ اُس کے بندے اور آخری رسول ؐ ہیں۔اللہ کے سِوا کوئ عبادت کے لائق نہیں۔اُس کا کوئ شریک نہیں، وہی بندگی کے لائق ہے۔نہ ہی اُس کا کوئ باپ ہےاور نہ ہی اُسکا کوئ بیٹا۔ اُس نے یہ دنیا بنائ ہے۔ یہ زمین اور آسمان،یہ چاند سورج، ستارے، یہ بہتے ہوئے دریا،یہ اُنچے اُنچے پہاڑ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،یہ لہلہاتے ہوئے کھیت،یہ ہرا ہرا

سبزہ،یہ مینہ برساتے ہوئے بادل سب اُسی کے بناے ہوئے ہیں۔اُسی نے انسانوں کو،جانوروں کو،پرندوں کو، مچھلیوں کو اپنی قدرت سے پیدا کیاہے۔وہی  ہماری دُعایئں سُنتا ہے اور دِلوں کا بھید جانتا ہے،وہی ہم سب کا ما لِک ہے۔اللہ نے اپنا کلام پاک قرآن شریف ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر وہی کے ذریعے اُتارا ہے۔یہ ایک آسمانی کِتاب ہے جِس کو کوئ نہیں بدل سکتا۔

ہم مسلمان ہیں اور ہمارے دین کا نام اِسلام ہے۔اِسلام نیکی،پاکی،بھلائ اور سچّائ کا راستہ دِکھا تا ہے۔مسلمان ہونے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے دین پر چلیں۔اللہ پر، اُس کے رسول حضرت محمد (صل) پر، اُس کی بھیجی ہوئ کِتاب قرآن مجید پر،اُس کے تمام نبیوں پر،جنّت اور دوزخ پر،اُس کے فرشتوں پر،اور قیامت اور اِنصاف کے دِن پر یقین کریں اور اِس بات پر بھی یقین

کہ سب مرنے کے بعد پھِر زندہ ہونگے۔جو نیک ہیں وہ جنّت میں جایئں گے اور جو بُرے ہیں وہ دوزخ میں جایئں گے۔اللہ کا نیک اور اچھا بندہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ سو چیں کہ اللہ کو کیا پسند ہے اور کیا نا پسند ہے۔ ہمارے نبی  پاک حضرت محمد (صل) نے اپنے ہرہر عمل سے یہ تعلیم دی ہےکہ کیسے ہم اللہ کےسچّے اور اچھے بندے بن سکتے ہیں۔ اللہ کو پسند ہے کہ ہم کلمہ طیّب کو زبان سے ادا کریں اور اُس پر دِل ے یقین کریں۔اللہ کو کُفراور شِرک یعنی اُس کے ساتھ کِسی کو شریک کرناقطعأ ناپسند ہے۔اِس گناہ کی کوئ معافی نہیں ہے۔

اللہ کو نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا،روزے رکھنا،زکات دینا اور حج کرنا پسند ہے۔یہ اِسلام کے پانچ رُکن ہیں جِنہیں بِلا وجہ چھوڑنا نا پسند ہے۔ اللہ کوماں باپ سے محبت،اُنکی خِدمت اور فرمابرداری پسند ہے۔اُن کے ساتھ بد سلوکی،بے ادبی اور نا فرمانی نا پسند ہے۔اللہ نے فرمایا ہے کہ ماں کے پیروں کے نیچے جنّت ہے۔اللہ کو رشتہ داروں،دوستوں، پڑوسیوں اور تمام مخلوق کے ساتھ بھلائ اور اچھّا سلوک پسند ہے۔

اللہ کو رحم دِلی، سخاوت، معافی، وعدے کی پابندی،اِنصاف،سچائ اور ایمانداری پسند ہے۔اور ظُلم، جھوٹ، غیبت، حسد،کینہ،کپٹ، گھمنڈ،چوری وعدہ خلافی،بےایمانی اور بے اِنصافی نا پسند ہے۔ اللہ کو حلال روزی پسند ہے اور حرام روزی نا پسند ہے۔اللہ کو صبر و شکر پسند ہے اور نا شکری نا پسند ہے۔اللہ  اور اُسکے رسول (صل) نے قرآن پاک کے ذریعہ ہمیں نیکی اور بدی دونوں راستے بتائے ہیں اور ہمیں عقل دی ہےکہ ہم نیکی کا راستہ اِختیار کریں۔اور بدی سے بچیں۔تاکہ ہم جنّت میں جایئں اور دوزخ کی آگ سے بچ سکیں۔ہمیں نیکی کے راستہ ے بھٹکانے کے لئے شیطان اپنی پوری طا قت لگاتا ہے۔اور تمام چالیں چلتا ہے۔اِس لیئے میرے عزیز دوستوں جب بھی کوئ بُری بات دِل میں آئے یا بُرا کام کر نے کو دِل چاہے تو سمجھ لیجیئے کہ شیطان آپ کو بہکارہا ہے۔اُسی وقت اُس سے بچنے کے لئے لاحوُل پڑھ لیجئے اور اللہ سے توبہ کر لیجئے تاکہ آپ  شیطان ے بچ سکیں اور اللہ و اُس کے رسول کا پیار پا سکیں۔

اِتنا کہنے کے بعد سعادت علی نے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے میں آج کادَرس مختصر کرتا ہوں۔اب آپ لو گوں میں سے جو بھی سوال کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ ایک سات سال کے بچّے   شاہِد نےکھڑے ہو کر پو چھا ’’ سعادت بھائ نیکی کیا ہوتی ہے‘‘۔ سعادت علی نے جواب دیا  نیکی! نیکی ہر اچھی بات اور ہر اچھے کام کو نیکی کہتے ہیں۔جیسے تُم اپنے ابّو اَمّی کا کہنا مانو یہ بھی نیکی ہے۔کِسی بھوکے کو کھانا کھِلاو، کِسی پیاسے کو پانی پِلاو یہ بھی نیکی ہے۔پاس بیٹھے ہوئے رَشید نے کہا ’’سعادت بھائ، میں  صُبح اُٹھ کر سب سے پہلے اپنے مُرغا مُرغی کو دانا پانی دیتا ہوں اور اپنے بکرے جاں باز

اور بکری نازنین کو پتّی کھِلاتا ہوں تو یہ بھی نیکی ہوئ ‘‘؟سعادت علی نے کہا ’’ ہاں ہاں کیوں نہیں ‘‘۔ اِتنے میں ایک بچّے گُلریز نے سہمے ہوئےاور ڈرے ہوئے انداز میں کہا۔ سعادت بھا ئ ’’ مُجھ سے ایک بہت بڑا گُناہ ہو گیا ہے۔مُجھے اللہ سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔سعادت علی نے چونک کر پو چھا ’’ گُناہ کیسا گُناہ‘‘؟ تو اُس نے بتایا کہ  ’’ میرے سات گھر آگے ایک پاگل رہتا تھا جِس کا نام کالو تھا۔ جب بھی وہ سڑک پر نِکلتا بچّے اُس کے پیچھے بھاگتے چھیڑتے اور پتّھر مارتے تھے۔میں اُن میں  آگے آگے رہتا تھا۔اب وہ مر چُکا ہے لیکِن مجھے  اللہ سے بہت ڈر لگ رہا ہے‘‘۔دِلاور نے ڈرتے ڈرتے کہا’’ ایک گُناہ تو مُجھ سے بھی ہوا ہے میں نے اپنی غُلیل سے کھیل کھیل میں ایک بلّی کی آنکھ پھوڑ دی تھی اور وہ چیختی چِلّاتی چلی گئ تھی اور پھِر کبھی دِکھائ نہیں دی۔مُجھے ڈر لگ رہا ہے کہ اللہ مُجھے اِس کی سزا ضرور دیگا ‘‘۔

سعادت علی نے سوچتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا ’’ ہاں ! بات تو گُناہ کی ہے لیکِن اگر تُم سچّے دِل سےاللہ سے توبہ  کر لو اور پھِر کبھی کِسی کو نہ ستاو اور نہ ہی کِسی پر ظُلم کرو تو اللہ بہت ر حیم ہے وہ تُمہاری خطا معاف  کر دیگا۔اللہ سچّے دِل سے توبہ کرنے والوں کو معاف فر ما دیتا ہے‘‘۔دس سال کے ایک بچّے شکور نے   کھڑے ہو کر ایک سوال کیا ’’ سعادت بھائ کیا سو تیلی ماں کے پیروں کے نیچے بھی جنّت ہوتی ہے ؟ میری ماں سو تیلی ہے وہ مُجھے بہت مارتی ہےاور مُجھے کھانا بھی نہیں دیتی ہے ‘‘۔ یہ کہ کر شکور نے کُرتا اُٹھاکر اپنی پیٹ کے زخم دِکھائے۔ کئ بچّوں کے مُنہ سےبے ساختہ ’سی‘ کی آواز نِکل گئ اور بچّوں کی آنکھیں آبدیدہ ہو گیں۔ سعادت علی کے چہرے پر اُس  بچّے کی تکلیفوں کا سارا درد سِمٹ کر آگیا۔اُنھو نے آگے بڑھ کر پیار ے اُس کے شانے کو تھپتھپایا اور کہا اللہ بہت رحیم ہے وہ تُم پر ضرور رحم فرمائے گا۔جہاں تک تُمھارے سوال کا تعلق ہے تُمھارا سوال مُشکِل بھی ہے اور بڑا  اہم بھی۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اگرسوتیلی ماں سگی ماں کی طرح پیار اور خیال کر تی ہے اور اگر سو تیلا بیٹا سگے بیٹے کی طرح اپنی سو تیلی ماں کو پیار کرتا ہے تو یقینأ اللہ دونوں سے خوش ہوگا۔لیکِن تُمھاری سو تیلی ماں تُمہیں مارتی ہے اور کھانا بھی نہیں دیتی تو اچھا نہیں کرتی۔ اللہ ظُلم کو نا پسند فر ما تا ہے۔

سوال و جواب کا سِلسلہ ختم ہونے پر سعادت علی نے دُعا پڑھی۔ بعد دُعا کے سعادت علی نے ایک تجویز پیش کی کہ آپ لوگوں میں جو بھی آسودہ حال ہیں اور جِن کو اپنے والدین سے اچھی خاصی پاکٹ منی  مِلتی ہےکیا ہی اچھا ہوکہ وہ لوگ اپنے فالتو اخراجات کو کم کر کے ماہانہ کُچھ رقم چندے میں دیا کریں اُن غریب بچّوں کے لئے جو ذہین ہیں اور پڑھنے لِکھنے کے شو قین ہیں لیکِن غریبی کی وجہ سے تعلیم حاصِل نہیں کر پاتے۔تاکہ اُن کی تعلیم کے لئے اُنہیں وظیفے دیئے جا سکیں۔ اس پر پندرہ بچّوں نے آپس میں طے کرکے ہاتھ اُٹھادیئے۔اُن میں سے شہ باز ملِک نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم پندرہ لوگوں یہ طے کیا ہے کہ  ہم اپنی پاکٹ منی  سےپانچ سو روپیہ ماہانہ بخوشی دے سکتے ہیں۔ کریم نے سعادت علی اور خود کو شامِل کر کے بتا یا اِس طرح ہم کُل ۱۷ افراد ہوئے ۔اور ہمارے پاس    85oo روپیے ما ہا نہ جمع ہوگا اِس طرح   102000 روپیے سالانہ جمع ہوگا۔فورأٔ  ۱۷ میمبران کی رائے سے ایک کمیٹی بنائ گئ جِس کا نام اِمداد کمیٹی رکھا گیا۔ تمام میمبران کی رائے سے سعادت علی کو صدر، شہباز ملِک کو نا ئب صدر اور کریم الدین کو ٹریزرارمُقرر کیا گیا۔ شہباز ملِک نے کھڑے ہو کر اپنی اور تمام بچوں کی جانِب سے سعادت علی کو اُن کی یومِ سالگرہ اور ’درس‘ کے لئے مُبارک باد پیش کی اور اپنی اِمدد کمیٹی کی جانِب سےایک اور تجویز رکھی کہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایک  ’درس‘ ہوا کرے جِس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں بچے حِصّہ لینے کی کو شِش کریں۔ سعادت علی نے شِہباز ملِک کی اس پیش کش کو’’ خوش آمدید‘‘ کہا اور کہا کہ اِس کام کے لئے میرا گھر اور میری خِدمات حاضِر ہیں۔

اِس کے بعد کریم نے مایئک پر اعلان کیا کہ آپ سب لوگ کھانے پر تشریف لے چلیں۔مزےدار، خُو شگوار، ذائقےدار لنچ آپ کا مُنتظِر ہے۔ایک بڑی خُو شخبری یہ ہے کہ سعادت بھائ نے آپ سب کے لئے مُختلیف قِسم کی آیئس کِریم بنوائ ہے۔ یہ سُن کر سارا  ہال تالیوں سے گْونج اُٹھا۔لنچ کے بعد تمام بچوں کو رُخصت کرتے ہوئے سعادت علی نے میوے اور

مِٹھائ کے پیکٹس تقسیم کئے جِن پر چھوٹے چھوٹے شکریئے کے کارڈ لگے ہوئے تھے۔

سعادت علی  نےشکور سے کہا’’ تُم یہیں ٹہرو میں تُمہیں خود تُمھارے گھر پُہچانے جاوں گا‘‘ سب کو رُخصت کر کے سعادت علی کریم الدین کے ہمراہ ڈرایئور کے  ساتھ شکُور کوپہُنچا نے اُس کے گھر گئے تاکہ اُس کی سوتیلی ماں سے بات کر سکیں۔

جیسے ہی سعادت علی کی کار شکُور کے گھر کے سامنے رُکی شکُور کی ماں جو کھاٹ پر بیٹھی دال چاول چُن رہی تھی اِن لوگوں کو کار سے اُتر تا دیکھ کر کھڑی ہو گئ۔ سعادت علی نے بڑھ کر پُو چھا ’’ آپ ہی شکُور کی کی امّی ہیں‘‘۔ اُس نے کہا۔’’ ہاں ہاں کیا بات ہے‘‘؟ سعادت علی نے شکُور کی پیٹھ اُسے دیکھاتے ہوئے پوُچھا۔ ’’ آپ نے ہی  اِسے مارا ہے‘‘ ؟ اُس نے کہا۔

’’ جی ہاں ! وہ ہے ہی اِ س لائق ! میں نہ مارتی اُس کا باپ اُسے مارتا۔نِکمّا ہے نِکمّا ! کہتی ہوں کہ مزدری کرنے جا تو کہتا ہے کہ ’’ بدن میں جان نہیں ہے‘‘ کہو کہ بھیک ما نگ لا تو کہتا ہے ’’کہ شرم آتی ہے‘‘ جب دیکھو مدرسے میں جا کر بیٹھ جاتا ہے‘‘۔

سعادت علی نے شکُور کے جِسم کو غور سے دیکھا  جِس ہڈّیاں زیادہ اور گوشت کم تھا۔ باتوں کی آواز سُن ک اُ سکا باپ باہر نِکل آیا اور بیوی سے بولا’’ جا جا اندر جا ! صاحب لوگ ہیں اور سعادت علی سے بولا۔ ’’ سلام سا ب !ہم غریبوں کے گھر کیسے آنا ہوا؟ سعادت علی نے بتایا کہ آج میرے یہاں ’درس‘ تھا ۔ مدرسے کے بچوں کے ساتھ یہ بھی شریک ہونے آیا تھا۔

میں  اِسے خُود اِس لئے  پہُنچانے آیا ہوں کہ آپ سے اِس کے بارے میں کُچھ بات کر سکوں۔یہ آپ کا بیٹا ہے۔اور بیٹا باپ کے بُڑ ھا پے کا سہارا ہوتا ہے۔اگر والدین اِسی طرح مارتے پیٹتے رہے تو مُمکِن ہے یہ بیمار ہو جائے ۔یا مار کھانے کے ڈر سے گھر ہی سے بھاگ جائے۔دونوں حالتوں میں یہ بات آپ کے لئے نُقصان دہ ثابِت ہوگی‘‘۔

اِس بات کو سُن کر اُس کے باپ نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔’’ صاب کیا بتاوں مزدوری کر تا  ہوں۔صُبح نِکلتا ہوں شام لوٹتا ہوں۔میں تو خُود ہی روز روز کی  کچ کچ سے تھک گیا ہوں۔ سوتیلی ماں ہے مارنے پیٹنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی ہے‘‘۔

سعادت علی نے سوچتے ہوئے کہا’’ میرے پاس ایک حل ہے اگر آپکو منظور ہو تو اِس کو میرے پاس چھوڑ دیں اِس کی پڑھائ لِکھائ اور تمام اَخراجات کی ذمہِ داری میں لینے کو تیار ہوں۔ یہ ذہین ہے اور پڑھنے کا بہُت شو قین ہے۔پڑھ لِکھ کر کُچھ بن جا ئے گا تو آپ کا بڑا سہارا بن سکتا ہے‘‘۔ اُس کے باپ نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ ’’ صاب آپکی بڑی مہربانی ہو گی اللہ آپکو  سلا مت ر کھے آپنے میری پریشانی دوُر کر دی۔ اور بیٹے کو آواز دے کر کہا۔’’ اُورے شکُورے !! چھوٹے صاب تُجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں اور تیری پڑھائ کا بندوبست کر نا چا ہتے ہیں۔سُن رے تُو وہاں جا کر اُن کو کوئ شِکایت کا موقع مت دیجو!‘‘

یہ جان کر شکُور کی خُوشی کا کوئ ٹھِکانہ ن رہا۔وہ دوڑ کر کوٹھری کے اندر گیا اور ایک پُرانے تھیلے میں دو جوڑے کپڑے رکھ لایا۔ سعادت علی نے چلتے وقت اُس کے باپ سے کہا ’’آپ جب بھی چاہیں اُس سے مِلنے آ  سکتے ہیں اور اُس کو گھر بھی لے جا سکتے ہیں‘‘۔سعادت علی نے گھر آکر شکُور کو اپنے پُرانے مُلازِم غفور میاں کے سُپرد کر دیا جو سروینٹ کواٹر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔اور اُن سے کہا کہ ’’ غفور میاں یہ شکُور ہے یہ آپ کے ساتھ آپ کی تر بیت میں رہے گا۔کل صُبح آپ ابوّ جان سے check لے کر اِس کے اِسکول میں داخلے اور اِس کی تمام ضروری چیزوں کا بندو بست  کر دیں‘‘۔

رات کھانے کی میز پر سعادت علی اور کریم الدین، وجاہت علی اور زُبیدہ بیگم کو نِہایت جوش و خروش کے ساتھ دِن بھر کی روداد سُنارہے تھےاور دادِ تِحین پارہے تھے۔

ختم  شُد

This directory has been compiled by Muslim Saleem)

Muslim Saleem reciting his ghazals at Jashn-e-Muslim Saleem at MP Urdu Academy, Bhopal on December 30, 2012.

Muslim Saleem reciting his ghazals at Jashn-e-Muslim Saleem at MP Urdu Academy, Bhopal on December 30, 2012. The Jashn was organised by World Urdu Youth Forum to acknowledge Muslim Saleem’s literary contribution and service to Urdu through his websites and blogs,

From Left) Zafar Naseemi, MP Urdu Academy Chairman Saleem Qureshi, Dr. Barqi Azmi, Prof Afaq Ahmad, Dr. Qasim Niazi, Muslim Saleem at Jashn-e-Muslim Saleem at MP Urdu Academy, Bhopal on December 30, 2012.From Left) Zafar Naseemi, MP Urdu Academy Chairman Saleem Qureshi, Dr. Barqi Azmi, Prof Afaq Ahmad, Dr. Qasim Niazi, Muslim Saleem at Jashn-e-Muslim Saleem at MP Urdu Academy, Bhopal on December 30, 2012.

From Left) Zafar Naseemi, MP Urdu Academy Chairman Saleem Qureshi, Dr. Barqi Azmi, Prof Afaq Ahmad, Dr. Qasim Niazi, Muslim Saleem at Jashn-e-Muslim Saleem at MP Urdu Academy, Bhopal on December 30, 2012.

  1. January 18, 2012 at 8:26 am

    V.good

  2. July 23, 2012 at 3:41 am

    EK SABAQ -AAMOZ KAHANI JO BACCHON KI AALA TARBIAT KE LIYE EK DARS KI HESIYAT RAKHTI HAI
    SYED ZIA RIZVI

  3. January 23, 2013 at 1:25 am

    Syed Zia Rizvi :
    EK SABAQ -AAMOZ KAHANI JO BACCHON KI AALA TARBIAT KE LIYE EK DARS KI HESIYAT RAKHTI HAI
    SYED ZIA RIZVI

    Syed Zia Rizvi :
    EK SABAQ -AAMOZ KAHANI JO BACCHON KI AALA TARBIAT KE LIYE EK DARS KI HESIYAT RAKHTI HAI
    SYED ZIA RIZVI

  4. May 26, 2014 at 12:24 am

    مسلم سیلم آپ کو ادبی ویب سائیٹ کو کامیابی کے ساتھ چلانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،امید کرتا ہوں کہ ہو ارو زورقلم زیادہ، وسلام

  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: