Home > Muhammad Ibad Khan Shams Bhopali marhoom > محمدعباد خان شمس بھوپالی ایک درخشاں ستارہ جو ڈوب گیا:مسلم سلیم

محمدعباد خان شمس بھوپالی ایک درخشاں ستارہ جو ڈوب گیا:مسلم سلیم

تعزیتی اجلاس میں نوجوان شاعر کو خراجِ عقدت پیش کیا گیاIBAD SOLO 2
بھوپال (26 اکتوبر2015) بھوپال اردو ادب کی زرخیز سرزمین ہے۔ اس نے شعری بھوپالی، کیف بھوپالی، سراج میر خاں سحر جیسے شعراءسے فیض حاصل کیا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں سے حکومت کی عدم سر پرستی اور اور خود اردو داں طبقہ کی بے رغبتی کے باعث نئے اردو شعراءو ادباءکا بھوپال میں ظہور نہیں ہو رہا تھا۔ جو شاذونادر نئے چہرے دکھائی دیتے تھے وہ بھی اتر پردیش اور بہار سے یہاں بہ سلسلہ ¿ ملازمت آئے ہوئے ہیں۔ ان نئے چہروں میں سب سے تابناک ستارہ محمدعباد خان شمس بھوپالی تھا جو  25اکتوبر2015 کو دل کا دورہ پڑنے سے اچانک غروب ہوگےا۔ (اناّ للہ و اناّ الیہ راجعون) ۔
ہم سخن ادبی تنظیم کی جانب سے ایک تعزیتی اجلاس میںبھوپال کے اس نوجوان شاعر کو خراجِ عقدت پیش کیا گےا۔ شاعر اور صحافی جناب مسلم سلیم نے بتایا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے انکے حلقہ بگوش تھے۔انھوں نے بتایا یہ کہ اس سے پہلے انھوں نے کبھی شعر نہیں کہے تھے لیکن مجھ سے اور میری شاعری سے متاثر ہو کر انھوں نے شعر کہنا شروع کردئے تھے۔ کافی دنوں بعد انھوں نے اےک غزل بغرضِ اصلاح ارسال کی۔ ابتدائی مراحل کے اشعار تھے۔لیکن فنی نکات سے قطع نظر مجھے اےک با ت بہت نماےاں نظر آئی کہ یہ اک سوچنے والے شخص کی شاعری ہے جس کا مستقبل تابناک ہوگا۔ گذشتہ ۶ ماہ کے دوران وہ غزلیں بھیجتے رہے اور بعد میں خود غریب خانہ پر آکر اصلاح لیتے رہے۔ ہر بار ان میں بے حد امپروومنٹ دیکھنے کو ملا۔ اور اب تو یہ عالم ہو گیا تھا دو غزلے بھی بڑی صفائی کے ساتھ کہنے لگے تھے۔
مشہور شاعر جناب ثروت زیدی نے بتایاکہ محمد عبادخاں شمس بھوپا لی اچھا شاعر ہونے کا ساتھ ساتھ بے حد مخلص اور ملنسار بھی تھے۔ وہ بھوپال کی ادبی نشستوں کی روحِ رواں بنتے جا رہے تھے۔ ان کے انتقال سے اردو ادب کا نقصانِ عظیم ہوا ہے ۔
ہم سخن کے صدر جناب سلیم قریشی نے کہ کہا کہ محمد عبادخاں شمس بھوپالی مکمل شاعر تھے اور فیس بک پر مشہور اور مقبول ہو رہے تھا۔لیکن ستارہ چڑھنے سے پہلے ہی ڈوب گےاجس سے تما م دنیا اس سے ضیا ءبار ہونے والی تھی۔
تنظیم کے سکریٹری جناب عبدالاحد فرحان نے بتاےا کہ محمدعباد خان شمس بھوپالی جناب عارف محمد خان صاحب اورمحترمہ لُبنیٰ بیگم کے صاحبزادہ تھے جو تقریباً ۵۲ برس قبال ۷ جون کو بھوپال میں تولد ہوئے تھے۔ آپ نے بے نظیرکالج بھوپال سے تعلیم حاصل کی اور ایم ۔پی ۔ اسٹیٹ الیکشن اتھارٹی میں کمپیوٹر آپریٹر کے عہدے پر فائز تھے۔
اس موقعہ پر تنظیم کے ارکان جناب عطا ءاللہ فیضان، سمیر فیروزی، کاشف خان، توصیف خان، زیبا اکرم، سنجے گائکواڑ اور ادب نواز حضرات موجود تھے۔ نشست میں ۲ منٹ سکوت اختیار کرکے محمدعباد خان شمس بھوپالی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی

Advertisements
  1. M Tayyab
    March 17, 2016 at 3:58 am

    ye muslim saleem sahab jo bhi hain un ko kb sy lg raha hai k wo shair hain

    • March 28, 2016 at 6:49 pm

      Main tumhari baat se muttafiq hoon. zara khul kar batayen ke Muslim Saleem main kya kya kharabiyan hain taake usko expose kiya jaa sake

  1. October 26, 2015 at 3:59 pm

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: