Home > Uncategorized > Ghazal : کلیم عاجز

Ghazal : کلیم عاجز

   جب فصل بہاری آئی تھی گلشن میں انہی ایّام تھے ہم
 یاروں میں لٹاتے پھرتے ہیں ،کچھ پھول غزل کے نام سے ہم 
  کھولے ہوئے  ہیں غزلوں کی دکان ، ٹوٹے ہوئے دل کے نام سے ہم
 جھلکایں گے کتنے جام ابھی اس ایک شکستہ جام سے ہم 
  بجھنے کا خیال آتا ہی نہیں ،روشن جو ہوئے اک شام سے ہم
 تکلیف سلگنے ہی تک تھی ،جلتے ہیں بڑہے آرام سے ہم 
  اک شوخ کا بسمل کہتے ہی ، مشہور ہیں اب  اس نام سے ہم
 فن ہم سے تڑپنے  کا سیکھو ،واقف ہیں بہت اس کام سے ہم 
   اک دِن یہ ہے ، کتنی حسرت سے ذکر میے و مینا کرتے ہیں
 اک دِن تھے کہ کھلا کرتے تھے ،ساغر سے سبو سے جام سے ہم 
  چھائی ہے گھٹا شمشیروں کی ،زخموں کی پھوھاریں پڑتی ہیں
 کہتے ہیں لہو کے پیمانے ،ارزاں ہیں مئے گلفام سے ہم
   آج اپنے جھروکھے میں بیٹھے پتھر ہمیں مارے ہو پیارے
کل پھول اچھالا کرتے تھے ،اس بام سے تم اس بام سے ہم
Advertisements
Categories: Uncategorized
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: