Home > Urdu News > Atrocities on Myanmar Muslims: No one comes to help

Atrocities on Myanmar Muslims: No one comes to help

مائنمار کے مسلمانوں کی آہیں۔۔۔! نہ غیروں Myanmar

برما یعنی موجودہ مائنمار کا وزیر اعظم نریندر مودی، امریکی صدر بارک اوباما نے ایسٹ ایشیاء چوٹی کانفرنس کے سلسلے میں حالیہ دورہ کیا۔ اوباما اس ملک پر چین کے اثرات کو کم کرنے اور مودی نے ایک اور پڑوسی ملک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اس دورے پر توجہ مرکوز کی ہے لیکن کسی لیڈر نے اس ملک میں گذشتہ دو برسوں سے ظلم، بربریت اور بدترین سلوک سے دوچار مسلم اقلیت کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ برما میں 2015میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور عام انتخابات سے قبل روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا ان کو خود اپنے ہی ملک میں اجنبی بنانے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔ فوج اور پولیس کی سرپرستی میں بدھ ٹولیوں کی جانب سے جاری مسلمانوں کی نسل کشی کی کئی ہولناک داستانیں غیر ملکی میڈیا میں آچکی ہیں لیکن نہ تو کسی مسلم ملک کی جانب سے برما پر کوئی دباو ڈالا جارہا ہے نہ کوئی دوسرا ملک اس معاملے میں سنجیدہ نظر آتا ہے ۔ 2012میں ہوئے فسادات کے بعد کچھ پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور سعودی عرب نے ان مسلمانوں کیلئے رقمی امداد کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد سے ان مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی ملک بدری کو روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ایک گروپ نے مائنمار حکومت کی جانب سے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مہم کے نتیجہ میں انہیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں رکھنے اور ان کی شہریت ختم کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان مسلمانوں کو بد ترین نسلی تعصب کا شکار بنایا جارہا ہے ان کی بستیاں اجاڑی جارہی ہیں۔ مساجد کوراکھ کا ڈھیر بنایا جارہا ہے۔ انہیں الگ تھلگ رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ انہیں بدھسٹوں کی طرف سے سخت نفرت اور تشدد کا سامنا ہے حکومت بھی ان بدھسٹوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ اب تو خود حکومت نے ہی ظلم کی انتہا کردی ہے۔ حکومت ان روہنگیا ئی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے رہی ہے جبکہ وہ اس خطے میں صدیوں سے آباد ہیں۔ انتخابات کے پیش نظر حکومت ان روہنگیائی مسلمانوں کا اندراج بنگالی کی حیثیت سے کررہی ہے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے مکانوں کومنہدم کردیا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں کو گاوں سے باہر ایک کیمپ میں رہنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ اسی طرح انکار کرنے والے مسلمانوں کو نہ صرف ان کے گھروں بلکہ ان کی زمینوں سے بھی محروم کردیا جارہا ہے۔ نیو یارک میں قائم انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ کے مطابق جو سلوک مائنمار کی حکومت ان مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے وہ انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔ 2012 میں ہوئے فسادات میں سینکڑوں مسلمانوں کو بدھ ٹولیوں نے گاجر مولی کی طرح کاٹا، انہیں ان کے ہی جلتے گھروں میں زندہ پھینک دیا گیا۔ اس وقت جو دیڑھ لاکھ کے قریب مسلمان بے گھر ہوئے تھے ان کو آج تک رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ مل سکا۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش نے بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اب حکومت نے جو نیا منصوبہ بنایا ہے اس کے تحت 11 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی شہریت ہی ختم کردینے کی سازش کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسلمان خود کو بنگالی کے طور پر رجسٹرڈ کروائیں گے تو مستقبل میں ان کو مائنمار کی شہریت دی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے گا تو اس کو گرفتار کرلیا جائے گا یا ایسے افراد کیلئے بنائے گئے کیمپ میں رہنے پر مجبور کیا جائے گا۔ روہنگیا مسلمانوں کاکہنا ہے کہ اگر وہ خود کو بنگلہ دیشی لکھواتے ہیں تو ان کو غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا اور وہ تمام حقوق سے محروم کردےئے جائیں گے۔
برما کے مسلمانوں پر بدھسٹ کے پیرو، بھکشو، سادھو قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ کسی نہ کسی افواہ کو پھیلاکر فساد پربا کرنا روز کا معمول بن گیا ہے سب سے زیادہ شمال مغربی صوبہ ارکان کے مسلمان ہیں۔ برما انگریزوں کا دیا ہوا نام تھا جس کو فوجی حکمرانوں نے بدل کر مائنمار کردیا اس طرح رنگون یا نگون بن گیا اور ارکان صوبہ کا نام بھی بدل کر اراکھین رکھ دیا گیا ۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو ارکان کبھی ایک آزاد مسلم مملکت تھی۔ 20 ہزار مربع میل پر پھیلی اس مملکت پر 1784 کو برما نے قبضہ کرلیا۔ 1824 پر برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس پر قبضہ کیا۔ 1948 کو جب برما کو آزادی ملی تو انگریزوں نے ارکان کو آزاد ملک قرار دینے کی بجائے اس کو بدھوں کی غلامی میں دے دیا۔ بدھ مت عدم تشدد کی تعلیم دیتا ہے لیکن اس مذہب کو ماننے والے تشدد کی تمام حدود کو پار کررہے ہیں۔ فسادات میں 20ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بندوقوں، تلواروں اور آگ کے شعلوں کے حوالے کردیاگیا۔ خواتین اور بچوں کو خصوصیت سے نشانہ بنایا گیا ۔ مسلمانوں پر حملے اور تشدد ایک عرصہ سے ہورہا ہے اور کوئی ملک اس سلسلے میں کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے۔ 1978 میں جب ایسے ہی حملے ہوئے تھے تب دو لاکھ مسلمان فرار ہوکر بنگلہ دیش آگئے تھے۔ تاہم 2012 میں بھی جب مسلمانوں نے بنگلہ دیش کا رخ کرنے کی کوشش کی انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس طرح کئی مسلمان برما اور بنگلہ دیش کے درمیان سمندر اور دریاوں میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
حکومت کی جانب سے نیا قانون نافذ کئے جانے کے بعد سے ہزاروں روہنگیائی مسلمان ملک چھوڑ کر تھائی لینڈ اور دوسرے ممالک کا رخ کرچکے ہیں جبکہ ایک لاکھ مسلمانوں کو کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے اوباما کے دورے سے قبل صرف 3 ہفتوں میں 14,500مسلمان ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ملک چھوڑ کر جانے والے مسلمانوں کو بھی آسانی سے جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ پولیس اور فوج ان کو ملک سے جانے دینے کی اجازت دینے رقومات وصول کررہی ہے جن کے پاس رقومات نہیں ہیں ان کا قیمتی سامان چھین رہی ہے۔ برما کی سرکاری فوج روہنگیائی مسلمانوں کو انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں فروخت کررہی ہے۔ ایک کشتی کے 7 یا 9 ہزار ڈالر وصول کئے جارہے ہیں جس میں 50 تا 70 افراد ہوتے ہیں۔ یہ کشتی جس کسی ملک کی طرف جاتی ہے وہاں انسانی اسمگلرس ان مسلمانوں سے بے اجرت مزدوری کرواتے ہیں۔ فار ٹیفائی رائیٹس نامی ایک انسانی حقوق نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پولیس بحریہ اور فوج کے عہدیدار ہر ایک کشتی سے 7 ہزار ڈالر وصول کررہے ہیں یہ کشتیاں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے لاتے ہیں اور ملک سے فرار ہونے کے خواہشمند روہنگیا مسلمانوں کو لے جارہے ہیں۔ یہ کشتیاں تھائی لینڈ اور ملایشیاء کا رخ کررہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یومیہ 900 روہنگیا مسلمان ملک چھور کر جارہے ہیں۔
حکومت نے روہنگیا ئی مسلمانوں کیلئے جو کیمپ بنائے ہیں ان میں رہنے والوں کی تعداد دیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اگر یہ لوگ کیمپ چھوڑ نا چاہتے ہیں تو ان کو سیکوریٹی فورس کو معاوضہ دینا پڑے گا ۔ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب ایک مسلم اکثریتی علاقہ منگڈا ہے یہاں گذشتہ دنوں اچانک نوجوانوں کی گرفتاریوں کا عمل شروع ہوا۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں کو غیر مجاز اجتماع کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے جن کی تعداد 100 ہے لیکن بعد میںیہ انکشاف ہوا کہ ان 100 نوجوانوں کو تھائی لینڈ کے ایک انسانی اسمگلر کو فروخت کردیا گیا۔ ایک اسمگلر چھن تھیٹ منگ نے تحقیقات کرنے والے گروپ کو بتایا کہ برما کی پولیس نے ان 100 نوجوانوں کیلئے 2000 ڈالر اس سے وصول کئے تھے ۔ اگر کشتی بڑی ہوتی ہے یا تعداد زیادہ ہوتی ہے تو معاوضہ بھی زیادہ دینا پڑے گا۔ اس طرح روزانہ سینکڑوں روہنگیائی مسلمانوں کو فروخت کردیا جارہا ہے اور دنیا اس انسانیت کو شرمانے والے جرم پر خاموش ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ برما کے پڑوس میں ملایشیاء، انڈونیشیا جیسے مسلم ملک ہیں اور اس اسمگلنگ پر کوئی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ برما کی سرکاری مشنری اس جرم میں ملوث ہے اعلی عہدیداروں کا کہناہے کہ روہنگیائی مسلمان یہاں غیر قانونی طریقے سے رہتے ہیں اس لئے وہ کسی بھی ملک کا رخ کریں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔مائنمار کے مسلمانوں کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نہ ان کے پاس رہنے کیلئے زمین ہے اور نہ سر چھپانے کیلئے آسمان۔ مسلمان جنہیں یکا و تنہا کیمپوں میں رکھاگیا ہے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے اپنے بچوں تک کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک چاول کے تھیلے کے بدلے میں ایک بچہ فروخت ہورہا ہے۔
مائنمار کی جملہ آبادی 6کروڑ ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد 10سے 13 لاکھ کے درمیان ہے ۔ 2001 میں فوجی اقتدار کے خاتمہ کے بعد عوام سے اصلاحات کا وعدہ کیاگیا تھا لیکن عہدیداروں نے اصلاحات کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کردیاہے ۔ ان مظلوم مسلمانوں کو تشدد، نسل کشی، قتل عام اور دربدری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہر دن ایک نئی شکل و صورت میں ان پر تشدد کیا جارہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کو جن کیمپوں میں رکھا گیا ہے انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے نازی کیمپ ہیں۔ حکومت خود مسلمانوں کے ساتھ ایسے سلوک کو حق بجانب قرار دیتی ہے اور انہیں اپنے شہری ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں کوئی بھی سہولت یا رعایت سے محروم رکھتی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی تشدد ہوتا ہے تو فوراً ہی مسلمانوں پر اس کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ مائنمار میں بدھ راہبوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی اس دہشت پر کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے۔ خود امریکہ جو داعش کے نام پر عراق اور شام میں زبردست بمباری کررہا ہے، برما میں پیش آنے والے واقعات سے اپنی آنکھیں چرا رہا ہے۔ برما میں ایک بدھ راہب اشن وراتو کو ان سارے واقعات کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے ۔ 969 تحریک کے نام سے یہ گروپ مسلمانوں کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اس گروپ کے سری لنکا میں موجود بدھسٹوں سے بھی تعلقات ہیں اور اس گروپ کے اشاروں پر ہی سری لنکا میں بھی مسلمانوں کے خلاف حملے کئے جارہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنی دہشت گردی اور بربریت کے باوجود کوئی مسلم ملک اس بدھ تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں پر کنٹرول لگانے کیلئے زور دیتا ہے ۔ تیونس، مصر، یمن ،شام اور دیگر ممالک میں مسلمان اپنے اقتدار کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور ساری دنیا کامیڈیا ان کے بارے میں پل پل کی خبریں شائع کرتا ہے لیکن افسوس کہ روہنگیا مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے بارے میں میڈیا میں کوئی اطلاع شائع نہیں کی جاتی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مائنمار میں ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد ہے اور روہنگیا مسلمان اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لائیں ۔
اس وقت دنیا میں فلسطینیوں کو سب سے مظلوم قوم تصور کیا جاتا ہے یہ قوم کم سے کم مزاحمت کی طاقت تو رکھتی ہے جبکہ روہنگیائی مسلمان مزاحمت کے قابل بھی نہیں ہیں۔ ان کی حالت جانوروں سے بھی بد تر ہوتی جارہی ہے اور ان کے ساتھ یہ سلوک صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

Advertisements
Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: