Home > Urdu poems and prose latest > Barqi Azmi – tarhi ghazal for Diya group

Barqi Azmi – tarhi ghazal for Diya group


  • دیا کے ۴۲ ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی تو گیا جب سے فروغِ رخِ زیبا لے کر جی رہا ہوں میں اکیلا ہی اندھیرا لے کر

    تیرہ و تار ہے کاشانۂ دل تیرے بغیر روشنی کیا کروں مانگے کا اُجالا لے کر

    موجزن آنکھوں میں اشکوں کا ہو جیسے سیلاب میں لئے پھرتا ہوں دن رات یہ دریا لے کر

    وقف ہے تیرے لئے میرا یہ سامانِ وجود کیا کروں تیرے سوا حسرتِ بیجا لے کر

    تو جو مِل جائے سنور جائے گی قسمت میری بن ترے کیا کروں یہ دولتِ دنیا لے کر

    جیتے جی جن کی نہ لی کوئی خبر تونے کبھی ’’ اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخ زیبا لے کر‘‘

    مال و زر ، جاہ و حشم سب ییں رہ جائے گا ساتھ یہ جسم ہی سب جائیں گے تنہا لے کر

    تونے اسبابِ تعیش جو سجا رکھے ہیں ساتھ یہ اپنے بتا جائے گا کیا کیا لے کر

    عزرِ نفس ہے برقی کو سدا اپنی عزیز جی نہیں سکتا یہ غیروں کا سہارا لے کر

Advertisements
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: