Home > Urdu News > Syed Kazem Jafari on poet Ali Akbar Natiq

Syed Kazem Jafari on poet Ali Akbar Natiq

دنیا کی بڑی شاعری کہانی سے آگے بڑھی ہے

سید کاظم جعفری

جواں سال علی اکبر ناطقؔ کو ادبی منظر نامے پر نمودار ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے، مگر اُنھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سب کی توجہ اپنی طرف منعطف کر لی ہے۔ ناطقؔ شاعر بھی ہیں اورافسانہ نگار بھی۔ قریباً دو برس قبل اُن کاپہلا شعری مجموعہ ’’بے یقین بستیوں میں‘‘شائع ہوا، جس کا دیباچہ برعظیم پاک و ہند کے معروف نقاد شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے جب کہ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’قائم دین اور دوسرے افسانے‘‘ کو آکسفرڈ پریس نے چھاپا ہے اور وہ غالباً پہلے حیات افسانہ نگار ہیں، جن کی فکشن کی کتاب آکسفرڈ نے چھاپی ہے۔ناطقؔ کے افسانوں کے مجموعے کو بھرپور توجہ ملی ہے، اُن کے ایک افسانے کا ترجمہ معروف برطانوی ادبی جریدے’’ گرانٹا‘‘ میں شائع ہو چکا ہے، جسے بہت پسند کیا گیا۔حال ہی میں اُن کا دوسرا شعری مجموعہ ’’یاقوت کے ورق‘‘ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے۔ ’’یاقوت کے ورق‘‘ کی نمایاں ترین نظم ’’سفیرِ لیلیٰ‘ ‘ہے ،جو چار حصوں پر مشتمل ہے۔ اس نظم میں ناطقؔ بھرپور تاریخی شعور کے ساتھ وقت کے سمندر میں اُترتے ہیں اور قاری کو ایسے جزیروں کی سیر کرواتے ہیں، جو بیک وقت جانے پہچانے بھی ہیں اور اجنبی بھی۔ علی اکبر ناطقؔ،اوکاڑا کے ایک مضافاتی گاؤں چک32-2/L میں پیدا ہوئے، جہاں اُن کا خاندان 1947ء کی ابتلا کا شکار ہو کر مشرقی پنجاب سے نقل مکانی کر کے آ بسا تھا۔ اُنھوں نے مزدوری کرتے ہوئے تعلیم کا حصول جاری رکھا اور’’جدیداُردونظم کی جمالیات‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ایم فل اُردو کا امتحان پاس کیا۔ ناطقؔ کا تخلیقی سفر جاری ہے، شاعری اور افسانے کے بعد اب وہ ایک ناول لکھنے میں سرگرم ہیں۔ اُن سے ایک خصوصی مصاحبہ کے دوران ہونے والی گفت گو یہاں پیش ِ خدمت ہے: سوال:ناطقؔ !آپ نے شاعری کا آغاز کب، کیسے اور کیوںکیا؟ جواب:جعفری صاحب !شاعری کے شروع کرنے کا موسم تو مجھے یاد نہیں۔غالباً یہ بچپن ہی کے دن تھے ،جب میَں اپنے سر سبزو شاداب گائوں میں کوئلوں ،لالیوں اور کبوتروں کے پیچھے بھاگتاپھرتا تھا اور جامنوں ،بیریوں ،اور پیپلوں کے سائے سائے خدا کے رنگوں کو ڈھونڈتا تھا۔مجھے شاید فطرت موت کی طرح اپنی طرف کھینچتی ہے اور میَں جہاں کہیں خدا کے نظاروں کو دیکھتا ہوں، تو اُس کی تعریف میں نغمہ سرا ہو جاتا ہوں۔ سوال: شمس الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ آپ کی شعری جہتیں ،میراؔ جی کے شعری اثاثے کی نشاندہی کرتی ہیں ۔اس حوالے سے آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب:فاروقی صاحب نے میرے بارے میں جو رائے قائم کی ہے،اس کے بارے میں تو وہ خود ہی بتا سکتے ہیں البتہ اُنھوں نے شاعری میں کچھ ایسی باتیں محسوس کی ہیں ،جو میراؔ جی کے رستوں کی نشاندہی کرتی ہوں گی،لیکن میرا خیال ہے جب تک میری شاعری کا احاطہ تاریخی پس منظر اور فطرت کی جمالیات کو ساتھ رکھ کر نہ کیا جائے ،اُس وقت تک صحیح نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔ آپ کو میری شاعری کو اس معاملے میں تین حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ فطرت کی منظر نگاری،تاریخی منظر نگاری اورذہنی نفسیات کی منظر نگاری۔فاروقی صاحب نے غالباً ذہنی نفسیات کی منظر نگاری ہی کو سامنے رکھ کر یہ بات کی ہے،جو کہ میری شاعری کا ایک پہلو ہو سکتا ہے،سب نہیں۔ میَں نے شعر نہیں کہا جب تک میرے پاس مسئلہ نہیں اور مسئلہ بیان نہیں کیا، جب تک وہ شعر نہ بنا،شاعری میں لفظی ڈراما بازی کو مطعون سمجھتا ہوں سوال : آپ کی ایک افسانوں کی کتاب ’’قائم دین اور دوسرے افسانے‘‘ آکسفرڈ پریس نے چھاپی ہے ۔آپ کے ان افسانوں کی کہانی ہی آپ کی نظموں میں بھی موجود ہے اوربعض ناقدین کا خیال ہے کہ یہ نظمیں دراصل ناطقؔ کی کہانیاں ہیں،جو اُردو کے مروجہ نظم کے اصول کی نفی کرتی ہیں۔آپ کااس بارے میں کیا کہنا ہے ؟ جواب:پہلی بات تو یہ ہے کہ آرٹ اور ادب کا کوئی مروجہ اصول یا اُسلوب نہیں ہوتا۔ جینوئن تخلیق کار ہمیشہ اپنی تخلیق کے اصول خود بناتا ہے ۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری کہانی سناتی ہوئی نظمیں واقعی نظمیں بن گئی ہیں، توآپ اُن میں کہانی پن کے اُسلوب کو آج سے ایک اور اصول کہہ لیں۔ دنیا کی بڑی شاعری کہانی ہی کے واسطے سے آگے بڑھی ہے ۔دوسری بات یہ کہ جب آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہو تو وہ کہانی بن کر رہتی ہے اور اگر کہنے کو کچھ نہیں، تو آپ ادھر اُدھر کی ہانکتے رہتے ہیں،پھر اُنھیں نظموں کا نام دے دیتے ہیںاور انھی بے سروپا فقروں کے بل پر خود کو شاعر کہلواتے ہیں۔ سوال: آپ کی ایک نظم ’’ سفیرِلیلیٰ ‘‘بہت مشہور ہوئی ہے اورکئی نقاد اس پر مضامین بھی لکھ چکے ہیں اور شمس الرحمن فاروقی نے بھی کہا ہے کہ یہ اُردو کی بہت بڑی اور غیر معمولی نظم ہے۔یہ بتائیں کہ یہ کس طرح وجود میں آئی؟ جواب: نظم ’’سفیرِ لیلیٰ ‘‘واقعتاً بہت زیادہ مشہور ہوئی ہے ۔اصل میں مڈل ایسٹ کی سیرو سیاحت کے دوران بہت سے خرابات کے نقش میری آنکھوں میں بیٹھ گئے تھے ،جن کو میں اپنے اندر ہی اندر لیے پھرتا رہااور یہ نظم بہت عرصہ تک میرے سینے میں پکتی رہی اور میَں تاریخ کے تناظرمیں اسے اپنے دماغ میں بُنتا رہا۔بالآخر لکھنے بیٹھ گیا اور ایک مہینے کے دورانیے میں لکھ دی ۔میرا خیال ہے کہ یہ نظم میَں نے لکھنے کی بجائے ،خود دیکھی ہے اور قاری کو دکھائی ہے۔یہ نظم چارحصوں پر مشتمل ہے،جس کے پہلے تین حصوں کا خطاب الگ ہے اور چوتھے حصے کا خطاب نظم کے تقاضے کے لیے الگ رکھا گیا ہے۔میَں ’’سفیرِ لیلیٰ‘‘ کو لکھتے ہوئے ،خود بھی کافی عرصہ سر شاری کی کیفیت میں رہا۔ سوال:آپ کی تازہ کتاب ’’ یاقوت کے ورق‘‘ کی نظمیں آپ کی پہلی کتاب ’’بے یقین بستیوں میں ‘‘کی نظموں کی نسبت بہت واضح ہیں اور کچھ بڑی نظمیں بھی ہیں جب کہ پہلی کتاب کی نظموں میں بہت سی نظموں میں ابہام بھی تھا ،جن کی وجہ سے غالباً فاروقی صاحب کو شبہ ہوا کے آپ کی نظموں میں میرا ؔجی کے اثرات ملتے ہیں ،آپ کا کیا خیا ل ہے؟ جواب: جہاں تک میری نئی کتاب کا تعلق ہے۔میَں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب میں بہت سے ایسے موضوعات کو شعر میں لے کر آیا ہوں، جو شاید میں اپنی پہلی کتاب میں نہ لا سکتا تھا کہ وہ میرے سفر کا آغاز تھا چناں چہ اس کتاب میں، میَں نے جو خون کے رنگوںسے مصوری کی ہے ،اس میں میری جگر کاوی کا عمل بڑھ گیا۔میَں نے شعر نہیں کہا جب تک میرے پاس مسئلہ نہیں اور مسئلہ بیان نہیں کیا، جب تک وہ شعر نہ بنا۔میری نظر میں شعر کے معنی فطرت کی تصویریں ہیں، جن کے نقش بولتے ہوں ،رنگ اُبھرتے ہوںاور تصویریں حرکت کرتی ہوں۔ میَں شاعری میں لفظی ڈراما بازی کو مطعون سمجھتا ہوں، جس میں قاری پر فقط رعب گانٹھنا مقصود ہو۔شاعر تو سادہ لوح ،سادہ دل اور صاف گو ہوتا ہے ۔اس کا کام لفظوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے نہ کہ رسوا کرنا ۔اسے بے روح ،جامد اور کھردری زمینوں سے واسطہ نہیں ۔ شاعری تو دل سے دل تک کا سفر ہے، جو لفظوں کے معصوم پرندوںکے پروںپر ہوتا ہے۔ سوال :آپ جدید غزل ، نظم اور افسانے کے حوالے سے کن کا نام لینا چاہیں گے؟ جواب : یہ سوال ذرا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے نظم کے معاملے میں اوّل تو انھی پانچ شاعروں کا ذکر آتا ہے:میراؔ جی ، فیض احمد فیضؔ، ن م راشدؔ،مجید امجدؔ اور اختر الامان ۔ان پانچ میں اختر الامان نسبتاً کمزور شاعر ہیں اور ان میں سب سے بہتر اور طاقت وَر شاعر فیضؔ صاحب ہیں ،اس کے بعد اختر حسین جعفری، فہمیدہ ریاض اور حارث خلیق کے نام لیے جا سکتے ہیں اور غزل میں اس وقت افتخار عارف،خورشید رضوی کے بعد ادریس بابر ،اکبر معصوم اور انعام ندیم کے ہاں غزل کا جدید مصرع بنانے کا سلیقہ نظر آتا ہے ۔اس کے علاوہ اشفاق عامر اور منظر نقوی بھی اچھا شعر کہتے ہیں اور جدید افسانے میں فرخ ندیم اور ظفر علی سید کے نام لیے جا سکتے ہیں، جو میرا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں افسانے کی نثر کے اہم نام ثابت ہوں گے جب کہ نثری نظم میں افضال سید کا نام اہم ہے ،باقی اللّٰہ اللّٰہ ہے۔ سوال: ناطق ؔ! آپ نے پاکستان کے دو بڑے ادبی اداروں میں کام کیا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں پر کام کرنے والے لوگ واقعی ادب کی خدمت کر رہے ہیں یا کرنے کے قابل ہیں ؟ جواب:کاظم صاحب! اس طرح کے سوال پوچھ کے ،آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔میَں تین سال’’ اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ میں رہااور تین ہی سال’’ مقتدرہ قومی زبان ‘‘میں، جس کا نام حال ہی میں ’’ ادارۂ فروغِ اُردو زبان‘‘ رکھ دیا گیا ہے ،میں کام کیا ہے۔سچ پوچھیں !تو یہ دونوں ادارے جہالت اور بے ادبی کا کام اچھے طریقے سے کر رہے ہیں ۔مجال ہے اب ان اداروں میں کوئی پڑھا لکھا آدمی موجود ہو ۔افتخار عارف کے بعددونوں اداروں میں اب صرف اُلو بولتے ہیں ۔’’ادارۂ فروغِ اُردو زبان ‘‘کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے آتے ہی ادارے کا واحد پرچہ ’’اخبارِاُردو‘‘ بند کر دیا، جو تین مہینے بند رہا ۔آخر اُس کے مدیر سید سردار پیر زادہ نے منتیں کر کر کے اُسے دوبارہ جاری کروایا اوریہی حالت ’’اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ کی ہے ۔ سوال : پھر ان اداروں میں کیسے افراد ہونا چاہئیں ؟ جواب :میرے خیال میں ان اداروں کے افسروں سے لے کر کلرکوں تک تمام عملہ پڑھا لکھا اور نوجوان ہونا چاہیے ، جو ادب اور زبان کو بھی جانتے ہوں اور انھیں ادیبوں کی عزت اور اُن کے ساتھ بات کرنے کا سلیقہ بھی آنا چاہیے اور اُن کو اپنی افسری کا گھمنڈ نہ ہو ۔ اس بارے میں ،میَں مثال کے طور پر دو نام لینا چاہوں گا، ایک شیرازحیدراور دوسرا خالد چناصاحب، یہ دونوں انتہائی پڑھے لکھے اور ادب پرورہیں ۔اگرچہ ایک بیوروکریٹ ہے اور دوسرا ایک تعلیمی ادارے کا سربراہ، مگر دونوں نہایت مؤدب اور ادیب کی عزت و آبرو کو سمجھنے والے ہیں اور پاکستانی ادب اور زبان کے ساتھ عالمی ادب سے بھی واقف ہیں ۔ سوال:اچھا یہ بتائیے کہ آپ اب کس چیز پر کام کر رہے ہیں اور آیندہ کون سی تخلیق سامنے آنے والی ہے ؟ جواب :میرا ابھی ایک ناول آنے والا ہے اور میری پہلی افسانوں کی کتاب فیض ؔصاحب کے نواسے علی مدیح ہاشمی نے انگلش میں ٹرانسلیٹ کر دی ہے، جسے جلد ہی ایک بین الااقوامی ادارہ چھاپ رہا ہے ۔اس کے علاوہ میَں نے کچھ مرقعات لکھے ہیں ، مزید ایک ناول اگلے سال سامنے آ جائے گا۔اُس کو بھی ایک بین الاقوامی ادراہ چھاپ رہا ہے اور افسانوں کی پہلی کتاب کے بعد بھی میرے پاس سات آٹھ افسانے ہو چکے ہیں ۔ سوال :آپ کی تخلیقات بے شمار ادبی جراید میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔آپ کی نظر میں کون سے ادبی رسائل اس وقت اچھے ہیں ؟ جواب:پاکستان میں اس وقت ’’ دنیا زاد ‘‘، ’’آج‘‘ اور’’ نقاط‘‘ بہتر رسائل ہیں اور انڈیا میں’’ اثبات‘‘اچھا پرچہ ہے،جسے اشعر نجمی نکال رہا ہے ۔ ٭…٭…٭

Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: