Home > Urdu News > Yeh tawarud tha ya sarqa?

Yeh tawarud tha ya sarqa?

چکبست اپنی مرتبہ “گلزار نسیم “کے دیباچے میں لکھتے ہیں “ایک دن مشاعرے میں …..ناسخ نے ..کہا کہ پنڈت صاحب یعنی  نسیم نے ایک مصرع کہا ہے ،دوسرا مصرع نہیں سوجھتا …انھوں نے جواب دیا “فرمائیے “ناسخ نے یہ مصرع پڑھا .”شیخ نے مسجد بنا مسمار بت خانہ  کیا ” ان کی زبان سے مصرع نکلنے کی دیر تھی کہ یہاں دوسرا مصرع تیار تھا “تب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ کیا ” حاضرین جلسہ پھڑک اٹھے ….ناسخ نے شاعری کی آڑ میں مذہبی چوٹ کی تھی ،لیکن نسیم نے ٹھنڈا کر دیا “ص 25 مگر وہ شعر جس کا ایک مصرع ،بہ قول چکبست ناسخ کا اور دوسرا نسیم کا ہے ،در اصل میر اعلی علی کا ہے اور تذکرہ میر حسن میں ہے جو اس وقت وجود میں آیا جس وقت ناسخ بہت کم عمر تھے اور نسیم کو اس دنیا میں آنے میں بہت دیر تھی .الفاظ کے خفیف فرق کے ساتھ  میر اعلی علی کا مطلع یہ ہے

توڑ بت زاہد نے کیوں مسجد یہ بت خانہ کیا
تب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ کیا
لطف یہ ہے کہ نسیم کے استاد بھائی رند کے یہاں بھی یہ مطلع لفظوں کے نا قابل اعتنا اختلاف کے ساتھ ملتا ہے
ٹوٹے بت ،مسجد بنی مسمار بت خانہ ہوا
 جب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ ہوا     (دیوان ص 172 )  .  اس میں کچھ شک نہیں کہ مطلع میر اعلی علی   کا ہے ،رند نے یا تو سرقہ کیا ہے یا انھیں توارد ہوا ہے ” قاضی عبد الودود،آوارہ گرد اشعار ص 13
Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: