Home > Urdu News > Urdu seminar held at Jaipur

Urdu seminar held at Jaipur

کل ہند سیمنار ’’اردو صحافت کی مختلف جہات ‘‘انجمن فروغ اردو اور راجستھان اردو اکیڈمی جے پور کی جانب سے منعقد

‘‘17-18فروری2013جے پور
اردو صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے زیادہ موثر اور مفید بنانے کی ضرورت
اردو صحافت نے آزادی سے قبل جس حق گوئی‘ بے باکی اور جرات کا مظاہرہ کیا اس کی کوئی نظیر دوسری زبان میں نہیں ملتی اورتمام طرح کی رکاوٹوں اور دشواریوں کے باوجود آج بھی اردو اخبارات جس طرح حق و انصاف او ر سچائی کا پرچم بلند کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہے لیکن
اردو صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے زیادہ موثر اور مفید بنانے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار متعدد صحافیوں اور دانشوروں نے یہاں ’’اردو صحافت کی مختلف جہات‘‘ پر منعقدہ دو روزہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینارکا انعقاد انجمن فروغ اردو اور راجستھان اردو اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔سیمنار میں راجستھان کے علاوہ دہلی ‘ اترپردیش‘ مہاراشٹر ،مدھیہ پردیش ،ہریانہ اور ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔افتتاحی پروگرام کی صدارت منوہر دیو جوشی جرنلزم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سنی سبیسٹین نے کی ۔
معروف صحافی روزنامہ خبردار جدید دہلی کے ایڈیٹر معصوم مرادآبادی نے اردو کو گنگاجمنی تہذیب کی میراث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے صرف کسی ایک فرقہ کی زبان قراردینے والے دراصل اپنی میراث پر بہت بڑا ظلم کررہے ہیں۔ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے تین بڑے اخبارات کے مالکان ہندو ہیں۔ اسی طرح آزادی سے قبل بھی کئی بڑے اخبارات کے مالکان مسلمان نہیں تھے۔انہوں نے اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ آج گوکہ اردو اخبارات بڑی تعداد میں نکل رہے ہیں لیکن ان میں بیشتر کا مقصد اردو زبان یا صحافت کا فروغ نہیں ہے بلکہ یہ صرف کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات اور مقاصد کی تکمیل کے لئے شائع ہورہے ہیں۔
معصوم مرادآبادی نے متنبہ کیا کہ کچھ طاقتیں ہمیں اردو سے دورکرنے کی سازش کررہی ہیں لیکن اگر ہمیں اردو سے محبت ہے تو ہمیں حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے خود عملی اقدامات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بچوں اور نئی نسلوں کو اردو پڑھانا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ اردو کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو حکومت اس میں مانع نہیں آسکتی ہے‘‘۔
معروف صحافی اور کالم نویس سید منصور آغا کا خیال تھاکہ اب اردو اخبارات صرف تجارت بن کر رہ گئے ہیں۔ جو اخبارات بڑے بزنس ہاوسیز نکال رہے وہ صرف اپنی بزنس کو بڑھانے کے لئے اور اردو پڑھنے والے کسٹمرس تک رسائی کے لئے ایسا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اخبارات کا میعار انتہائی گر گیا ہے ان میں جذباتیت زیادہ ہوتی ہے حقیقت پسندی او رمواد کم ہوتا ہے۔انہوں نے اس صورت حال پر غور کرنے اور اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دیا۔
انگریزی روزنامہ دی ہندو کے سابق اسسٹنٹ ایڈیٹر اور ہری دیو جوشی جرنلزم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سنی سیبسٹین نے کہا کہ اب جب کہ ارود صحافت کے تقریباََ دو سو سال پورے ہونے والے ہیں ہمیں اس کے تمام پہلووں پر سنجیدگی اور گہرائی سے جائزہ لے کر اسے جدید چیلنجز او ر تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے فیصلہ سازوں کو‘ جو اردو صحافت یا اس کی اہمیت کے بارے میں واقف نہیں ہیں انہیں اس سلسلے میں آگاہ کرانے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی یونیورسٹی میں جلد ہی اردو میں جرنلزم کا کورس شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے اس اعلان کا زبردست خیرمقدم کیا گیا۔
راجستھان اردو اکیڈمی کے چیئرمین حبیب الرحمان خاں نیازی نے کہا کہ اردو صحافت سرکاری تعصب کا شکار ہے اور جو مراعات دیگر زبانوں کے اخبارات کومل رہے ہیں ان سے اردو کو محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی ملک کی تعمیر میں اردو صحافت کے رول سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔
راجستھان اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری خداداد خان مونس نے مشورہ دیا کہ اب جب کہ اردو صحافت نے نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے اسے نئی ٹکنالوجی‘ ضروریات اور اصطلاحات سے خود کو ہم آہنگ کرنا چاہئے اور دوسری زبانوں کی صحافت میں جو اچھی چیزیں ہیں اسے اپنانا چاہئے۔انہوں نے نئے صحافیوں کو بزرگ اور تجربہ کار صحافیوں سے تربیت حاصل کرنے کا بھی مشورہ دیا ۔ابوالفیض عثمانی کا کہنا تھا کہ آج جولوگ اردو کی روٹی کھارہے ہیں وہ خود اردو اخبارات و رسائل خرید کر نہیں پڑھتے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو اخبارات کے فرو غ کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص اس کے لئے اپنی بساط بھر پوری کوشش کرے۔
انجمن کی سیکریٹری ڈاکٹر زیبا زینت نے خطبہ افتتاحیہ پیش کیا ۔انہوں نے اردو صحافت کی تاریخ‘ اس کی خدمات اور موجودہ حالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج صحافت نے نئی قبائیں اختیار کی ہیں اور یہ سائبر میڈیا کا ایک اہم جز بن چکا ہے۔لیکن اسی کے ساتھ اس کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ اخبارات خرید کر پڑھیں۔نظامت کے فرائض بھی محترمہ نے ادا کئے۔
سیمنار کی تین نشستوں میں ذیل مقالہ نگار حضرات نے اپنے مقالے و تقاریر پیش کئے۔جناب معصوم مرادآبادی،جناب منصور آغا،جناب خدا داد خاں مونس،جناب ابو الفیض عثمانی،جناب مجید انصاری، نورین علی حق ،جناب شمس الہدا،پروفیسر فیروز احمد،صاحبزادہ شوکت علی خان،ڈاکٹر قمر جہاں ،ڈاکٹر نعیم فلاحی،ڈاکٹر راغب دیشمکھ،ڈاکٹر عادل،ڈاکٹر عابدہ آفریدی، شکیلہ بانو،ساحل آغا،ذکا الرحمن خان،ڈاکٹر عزیزاللہ شیرانی، شمشاد علی، ڈاکٹر حسین رضا ۔اسکے بعد اختتامی تقریب میں اردو اخبارات سے متعلق قرارداد پاس کی گئیں ۔ ان قراداد مطابق اردو کے اخبارات کو DAVPکی طرح 6ماہ کی مدّت کے بعد ریاستی حکومتیں بھی اشتہارات کے لئے منظور کرے۔ریاست کے دوردرشن اور ریڈیو اسٹیشن سے اردو خبریں نشر کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے سفارش کی جائے اور عملی جامہ پہنایا جائے۔ قومی اردو اخبارات کے نمائندوں کا ایکریڈیشن کیاجائے۔ ہندی انگریزی کے قومی اخبارات کو دئے جانے والے اشتہارات اردو کے اخبارات کو بھی دئے جائیں۔ اردو کی خبر رساں ایجنسیوں کو حکومت سبسکرائب کرے۔ جنرلزم کی یونیورسٹیوں میں اردو جنرلزم کا شعبہ قائم کیا جائے۔ چھوٹے اخبارات کو پریس لگانے اور نزدیکی صنعتی حلقے میں سستی در پر زمین مہیا کرائی جائے اور تعمیرو مشینری کے لئے کم سود پر قرض مہیا کرایا جائے۔
راجستھان کے62 سال کی عمر سے زیادہ کے تسلیم شدہ صحافیوں کو حکومت کی جانب سے 5000/-روپئے ماہانہ پینشن دئے جانے کے فیصلے کا انجمن خیر مقدم کرتی ہے اور امید کرتی ہے اس ضمرے میں صحافت سے جڑے بنا ایکریڈیٹ صحافی بھی شامل کر لئے جائیں گے۔
اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اکادمی کے صدر حبیب الرحمان نیازی نے کہا کہ اِن دو دنوں میں اردو صحافت کے ہر پہلو پر غور کیا گیا۔اس سیمنار میں جو مقالات پڑھے گئے ہیں بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔آپنے اعلان کیا کہ اردو سہ ماہی نخلستان کے خصوصی شمارہ شائع کر انہیں جلد سے جلد شائع کیا جائیگا۔
انجمن کی سیکریٹری اور ہماری طاقت پندرہ روزہ کی ایڈیٹر ڈاکٹر زیبا زینت نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار میں ہندوستان کی صحافت سے جڑے حضرات نے جس مخلصانہ انداز میں سیمنار کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ہمیں امّید ہے اردو صحافت نے جس طرح ماضی میں اپنا جوہر دکھایا،اسی طرح حال میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں ادا کرہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ اسکا مستقبل بھی تابناک رہوگا ۔
سیمنار میں کل 23مقالات پڑھے گئے جن میں اردو صحافت کی تاریخ ، پرنٹ ، الیکٹرانک اور سائبر میڈیا اورآج کی صحافتی ضروریات پو غورفکر کیا گیا۔اس موقع پر ۶کتابوں کا اجراء عمل میں آیا اور اردو اخبارات و جرائد کی ایک نمائش کا اہتمام بھی کیا گیاتھا۔

Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: