Home > Urdu poems and prose latest > Mushahid Razvi – Ghazal

Mushahid Razvi – Ghazal

ہم میں جو کل تھی آج وہ زندہ دلی کہاں؟


ہے زندگی کا نام مگر زندگی کہاں؟

گھر سے نکل پڑا ہوں مگر یہ خبر نہیں


لے جائے گی مجھے مری دیوانگی کہاں؟


کہہ دوں مَیں ان سے حالِ دلِ مضطرب مگر


کرتے ہیں مجھ سے ان دنوں وہ بات ہی کہاں؟


جس پر پہنچ کے ہوتا ہے حاصل سکونِ دل


اے دوست ہم نے پائی ہے وہ منزل ہی کہاں؟


کرتے تھے جن کا دل سے فرشتے بھی احترام


ملتے ہیں اب جہان میں وہ آدمی کہاں؟


قیدِ قفس سے چھوٹ کے اڑنے نہ پائیں گے


اس بات سے تھی ہم کو بھلا آگہی کہاں؟


رندوں کو کردے جام عطا بے طلب کئی


ساقیِ مَے کدہ میں یہ زندہ دلی کہاں؟


جو روشنی نہاں مرے داغِ جگر میں ہے


یارو! مہ و نجوم میں وہ روشنی کہاں؟


خاروں کے ساتھ پھول بھی جھلسے ہوئے ہیں

آج


صحنِ چمن سے جانے گئی دل کشی کہاں؟

  1. October 16, 2012 at 11:12 am

    جزاک اللہ مسلم سلیم صاحب

    آپ نے ناچیز کی غزل اس سائٹ پر لگا کر حوصلہ افزائی فرمائی

    آپ خوش و خرم اور شاد و آباد رہیں

  2. October 16, 2012 at 11:24 am

    جزاک اللہ مسلم سلیم صاحب

    آپ نے ناچیز کی غزل اس سائٹ پر لگا کر حوصلہ افزائی فرمائی

    آپ خوش و خرم اور شاد و آباد رہیں

    ناچیز کا نام رضوی Razvi ہے

  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: