Home > Urdu poems and prose latest > Barqi Azmi Ghazlen

Barqi Azmi Ghazlen

احمد علی برقی اعظمی ۔۔ غزل ۱

باغِ حیات پھولتا پھلتا دکھائی دے
وہ مثلِ گُل ہمیشہ مہکتا دکھائی دے

اقبال اُس کا یونہی ہمیشہ رہے بلند
وہ مِثلِ مہر و ماہ چمکتا دکھائی دے

بامِ عروج پر رہے ہر وقت تابناک
حُسن و شباب اُس کا نہ ڈھلتا دکھائی دے

اُس کے سوا کسی پہ نہ میری نظر پڑے
ہر سو اُسی کا جلوۂ زیبا دکھائی دے

گلچیں کو گُل کے حال پہ آئے گا تَب تَرَس
’’ جب چشمِ گُل سے خون اُبَلتا دکھائی دے‘‘

آدابِ بزمِ شوق کا جس کو نہیں لحاظ
اُس سے کہو یہاں سے وہ چلتا دکھائی دے

یارب کچھ ایسا کردے کہ میری نگاہ میں
جو بھی بکھر رہا ہے سنورتا دکھائی دے

 

 

احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ غزل ۲

کچھ کام آسکوں میں کسی بدنصیب کے
جو گِر رہا ہے مجھ کو اُبھرتا دکھائی دے

بے خوف ہوکے جی سکے ملت کا ہر جواں
کوئی بھی اب کسی سے نہ ڈرتا دکھائی دے

وہ رزمگاہِ زیست میں سینہ سپر رہے
ایڑی رگڑ رگڑ کے نہ مرتا دکھائی دے

ہو جورِ ناروا کا نہ کوئی کہیں شکار
ہر سمت عدل و داد کا چرچا دکھائی دے

جس کے غرورِ ناز سے نالاں ہیں اہلِ دل
جاہ و جلال اُس کا اُترتا دکھائی دے

کردی ہے جس نے نیند زمانے کی اب حرام
بامِ عروج سے مجھے گِرتادکھائی دے

روشن کروں زمانے کو برقی میں اِس طرح
جگنو کی طرح دل مرا جلتا دکھائی دے

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: