Home > Urdu poems and prose latest > Barqi Azmi’s tribute to Mushaira announcer Umar Qureshi

Barqi Azmi’s tribute to Mushaira announcer Umar Qureshi

بیادِ عمر قریشی مرحوم جن کا آج ِ ۱۶ ستمبر کو یوم پیدایش ہے

عمر قریشی کا انداز آپ بھی دیکھیں

مشاعروں کی نظامت میں تھے جو مایۂ ناز

مشاعروں کی تھے ضامن وہ کامیابی کے

تھے سامعین کے سوزِ دروں کی وہ آواز

وہ بولتے تھے تو ہونٹوں سے پھول جھڑتے تھے

تھا اُن کے طرزِ تکلم کا دلنشیں انداز

نہ کوئی ہوتا تھا اپنی جگہ سے ٹس سے مَس

ہمیشہ رہتے تھے سب لوگ گوش بر آواز

تھی بزمِ شعر میں تمہید ان کی جانِ سخن

تھا کامیابی کا شاید اسی میں اُن کی راز

مشاعرے میں سبھی لوگ ان کو دیکھتے تھے

تھا رشکِ اہلِ نظر جیسے ان کا غمزہ و ناز

سنی سنائی نہیں ، ہے یہ آنکھوں دیکھا حال

مجھے بھی یاد ہے ان کا یہ غمزۂ غماز

خطاب کرتے تھے بزمِ سخن کو جب برقی

بہت عزیز تھا لوگوں کو ان کا یہ انداز

احمد علی برقی اعظمی

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: