Home > Urdu poems and prose latest > Ahmad Kaavish – an introduction

Ahmad Kaavish – an introduction

Muhammad Ahmad Khan ‘Ahmad Kaavish’ (B. Sc. Alig 1952) passed away a few months back.
His ‘Shagird’ has compiled a book of his Urdu & Persian poetry & I wish to publish that.
A sample from the book follows. Please feel free to pass it on to Urdu lovers. This has been reported by Kavish’s son Junaid. (Muslim Saleem – September 16, 2012)
کس کو فرصت ہے کہ حالِ دلِ بے تاب سنے
 اور ہم ہیں کہ لیے بیٹھے ہیں اپنا قصہ
*
(Persian) نعتِ نبیﷺ

اے کہ مولائے عرب والئ اقلیمِ عجم
داخلِ ملکِ تو ہست ایں ہمہ موجودوعدم

باتقا ضائے تلطف بتمنائے کرم
آمدہ ام بحضورِ توبہ چشمِ پر نم

من گرفتارِ طلسماتِ ہوا وہوسم
یک نگاہِ کرم انداز باسمِ اعظم

آرزو می کشدم روضۂ اطہر بینم
بال وپر نیست کہ من سوئے مدینہ بپرم

ہست نقشِ قدمت قبلۂ اربابِ وفا
سرمۂ چشم بصاحب نظراں خاکِ قدم

آسماں گر بقدم بوسیم آید چہ عجب
من سرِ خود بہ درِ صاحبِ لولاک نہم

کاوشِؔ زار مبادا کہ بماند محروم
کس نیاید زدرت راندہ ومحرومِ کرم

*
پھر سرِ طور وہی برقِ تجلی جاگے
کوئی موسیٰ تو اُٹھے کوئی تقاضا جاگے

دل ہیں سوئے ہوئے کیا جشنِ تمنا جاگے
ایک ہُو کوئی کرے اور یہ دنیا جاگے

رات خود اپنا کفن اوڑھ کے سوجائے گی
آپ یہ ذہن بنائیں کہ سویرا جاگے

تشنگی سات سمندر سے کہاں بہلے گی
ایسے چھینٹوں سے تو کچھ اور یہ صحرا جاگے

لاکھ جادو یہ سیہ رات جگائے پھر بھی
اک ستارہ ہے تاصبح اکیلا جاگے

خواب کیا کیا نہ دِ کھیں جاگتے سوتے کاوشؔ
آنکھ لگنا بھی غضب ہے کہ تماشا جاگے

*
سنگ منزل نہ مورتی منزل
عرضِ تسلیم وبندگی منزل

ہے درِ ناز اور جبینِ نیاز
ذوقِ سجدہ کو مل گئی منزل

ہم طلسمِ سراب میں گم ہیں
اور تِل اوٹ ہے چھپی منزل

آرزو ہے ازل سے گرمِ سفر
کیا ہے تسکینِ شوق کی منزل

پیچ وخم میں الجھ گیا راہی
راستہ دیکھتی رہی منزل

زندگی کا سفر ہے کیا مشکل
ایک منزل سے دوسری منزل

راستے ہوں جدا‘ مگر کاوشؔ
اہلِ دل کی ہے ایک ہی منزل

*
کس کو اکسیر ملی سوزِ جگر سے پہلے
کیمیا کون ہواغم کے شرر سے پہلے

ایک آئینہ تھا درکار سنورنے کے لئے
جستجو اس کو بھی تھی میری نظر سے پہلے

در تلک اس کے بظاہر کوئی دیوار نہیں
اور دیواریں ہی دیواریں ہیں در سے پہلے

سرخروئی کے لئے اشک بہاتے رہئے
آبرو ہوتی نہیں دیدۂ تر سے پہلے

خود شناسی نے سکھائے ہمیں آدابِ جنوں
درخورِ شوق نہ تھے اپنی خبر سے پہلے

قافلے لٹتے ہیں تاریکئ شب میں اکثر
نیند دشمن ہے مسافر کی سحر سے پہلے

نہیں شایانِ جنوں سودو زیاں کا سودا
تنکے سو بار چنو برق وشرر سے پہلے

ہے مگر مہرو عطا پر بھی خطا وار شجر
موردِ رجم نہ تھا برگ وثمر سے پہلے

کوئی خالق ہے پسِ پردۂ تخلیق ضرور
مبتدا شرطِ عبارت ہے خبر سے پہلے

محتسب کرچکا اپنی سی تو چھائی ہے گھٹا
بادلوں کو بھی یہ ضد تھی کہ نہ برسے پہلے

کون بازار میں ہے فکرو نظر کا گاہک
ہم نے سوچا نہ کبھی عرضِ ہنر سے پہلے

تندو سرکش ہے بہت بادِ مخالف کاوشؔ
لنگر انداز رہو شُرطِ سفر سے پہلے

*
اہلِ دولت سے خدا واسطے کانٹا بھی نہیں
اور بندے کو خدا کہنا گوارا بھی نہیں

فکرِ عقبی بھی نہیں ‘ خواہشِ دنیا بھی نہیں
ان مکانوں میں مسافر کو ٹھہر نا بھی نہیں

خاک اُڑانے کو میسر جہاں صحرا بھی نہیں
دامنِ حشر باندازۂ سودا بھی نہیں

چھوڑ کر چل دیے اُلجھی ہوئی زلفِ گیتی
زندگی ہم نے تجھے ڈھنگ سے برتا بھی نہیں

تم شناور ہو تمہیں موجوں سے خطرہ کیا ہے
ٹوٹی کشتی سے بہت دُور کنارا بھی نہیں

اب لئے پھریے یہ احساس اکیلے پن کا
قد نکلتاہوا یاروں کو گوارا بھی نہیں

پھر بھی ہے اہلِ نظر کے لئے اک دعوتِ فکر
گرچہ اندازِ سخن اپنا اچھوتا بھی نہیں

پھر بھی ہے درپۂ آزار زمانہ کاوشؔ
تم حسین ابنِ علی بھی نہیں ‘ عیسیٰ بھی نہیں

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: