Home > Urdu poems and prose latest > سرسید احمد خاں کے چند انمول پہلو

سرسید احمد خاں کے چند انمول پہلو

 

1817ء کا دور ایسا تھا کہ مغلیہ سلطنت برطانوی سامراجیت کے آگے مغلوب ہوگئی تھی۔ پرانی اقدار اور مغلوں کا دور اقتدار بکھر چکا تھا۔ مغرب اور صنعتی اثرات غالب آتے جارہے تھے۔ قدم اقدار و جدید رجحانات کا عجیب سنگم ہورہا تھا۔ جو دور اندیش دانشور تھے وہ اس دھارے میں بہنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ جو مخالف دھارے میں بہنے لگے چند ہی سالوں میں تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ اس جدوجہد نے وقت کے گردشی پہیہ کی رفتار کو اور زیادہ تیز کردیا۔ ایسے ہی حالات کے درمیان سید احمد نے دہلی کے ایک معزز گھرانے میں ۱۷ اکتوبر کو آنکھیں کھولیں۔ ہرات سے ہجرت کرکے آئے اس گھرانے کا سلسلہ نسب آنحضرت ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؓ سے ملتا ہے۔ مغل دربار میں اپنی خدمات انجام دینے کے علاوہ حضرت شاہ غلام علی اور حضرت شاہ عبدالعزیز جیسے معزز مذہبی رہنماؤں سے کسب فیض حاصل کیا تھا۔ 
سید احمد کی پیدائش پر ان کے نانا خواجہ فرید الدین احمد نے کہا کہ ’’یہ تو ہمارے گھر میں جاٹ پیدا ہوا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ بہت توانا اور تندرست تھے۔ بچپن میں ان کی کسی خوبی کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ اسی بچے کا نام پیر شاہ غلام علی کے کہنے پر احمد رکھا گیا اور ان ہی کے ہاتھوں بسم اللہ کی رسم بھی ادا ہوئی۔ اسی موقع پر سید احمد نے ایک فارسی شعر بھی کہا تھا۔ 
ماں بی بی نامی دایہ نے سید احمد کی پرورش بڑی دلجمعی سے کی۔ لیکن پانچ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ماں بی بی کی اچانک رحلت پانچ سالہ سید احمد کے لیے ایک سانحہ عظیم سے کم نہ تھی۔ وہ بار بار اپنی ماں سے سوال کرتے تھے کہ وہ کہاں ہے۔ ان کی ماں جواب دیتیں کہ وہ دور چلی گئی ہیں اور اچھے گھر میں رہ رہی ہیں۔ بہت سے نوکر ان کی خدمت میں لگے ہیں۔ تم رنج مت کرو۔ مرتے وقت ماں بی بی نے خواہش کی تھی کہ ان کے تمام زیورات سید احمد کو دے دئیے جائیں لیکن سید احمد کی والدہ انہیں خیرات کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے سید احمد سے پوچھا اگر تم اس بات کو منظور کرو تو میں سارے زیورات ماں بی بی کے پاس بھیج دوں۔ سید احمد اس پر فوراً راضی ہوگئے۔
نانا کے امیرانہ و شاہانہ ماحول میں سید احمد کی زندگی بھی شان و شوکت سے گزری۔ لیکن ساتھ ساتھ اچھی پرداخت کا فرض بھی خواجہ فرید الدین نے ادا کیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو سید احمد صرف گیارہ برس کے تھے۔ یہ ۱۸۲۸ء کی بات ہے۔ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے سید احمد نے لکھا کہ:
’’میرے نانا صبح کا کھانا اندر زنانے میں کھاتے تھے۔ ایک چوڑا چکلا دسترخوان بچھتا تھا۔ بیٹے بیٹیاں پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں اور بیٹوں کی بیویاں سب ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ بچوں کے آگے خالی رکابیاں ہوتی تھیں۔ نانا صاحب ہر ایک سے پوچھتے تھے کہ کون سی چیز کھاؤ گے، جو کچھ وہ بتاتا وہی چیز چمچے میں لے کر اپنے ہاتھ سے اس کی رکابی میں ڈال دیتے۔ تمام بچے بہت ادب و صفائی سے ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ سب کو خیال رہتا تھا کہ کوئی چیز گرنے نہ پائے۔ ہاتھ کھانے میں زیادہ نہ بھرے اور نوالہ چبانے کی آواز منہ سے نہ نکلے۔ رات کا کھانا وہ باہر دیوان خانے میں کھاتے تھے وہاں پردہ ہوجاتا تھا۔ میری والدہ اور میری چھوٹی خالہ کھانا کھلانے آتی تھیں۔ ہم سب لڑکے ان کے سامنے بیٹھتے تھے۔ ہمارے لیے بڑی مشکل ہوتی تھی کہ اگر کسی کے پاؤں کا دھبہ سفید چاندنی پر لگ جاتا تھا تو بہت ناراض ہوتے تھے۔ روشنائی وغیرہ کا دھبہ کسی کے کپڑے پو ہوتا تھا اس سے بھی ناخوش ہوتے تھے۔ شام کو چراغ جلنے کے بعد ان کے پوتے اور نواسے جو مکتب میں پڑھتے تھے اور جن میں سے ایک میں بھی تھا، ان کو سبق سنانے جاتے تھے۔ سبق اچھا یاد ہوتا اس کو کسی قسم کی عمدہ مٹھائی ملتی اور جس کو یاد نہ ہوتا اس کو کچھ نہ دیتے اور جھڑک دیتے۔‘‘
سید احمد کی والدہ عزیز النساء بیگم نہایت دانشمند اور اولاد کی تربیت کے معاملے میں نہایت سخت تھیں۔ اکثر خفا ہوتیں اور تنبیہ کرتی تھیں۔ گیارہ بارہ برس کے سید احمد نے جب ایک بوڑھے نوکر کو تھپڑ ماردیا تو انہوں نے سید احمد کو گھر سے نکال دیا اور اس وقت تک گھر میں داخل نہ کیا جب تک انہوں نے ملازم سے اپنے قصور کی معافی نہ مانگ لی۔ سید احمد کی والدہ بڑی سخی تھیں۔ ہمیشہ غریبوں کی مالی امداد کرتی تھیں۔ یتیموں کی شادی، بیواؤں اور غریبوں کی مدد کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتی تھیں۔ ایک بار وہ شدید بیماری سے صحتیاب ہوئیں تو ان کے لیے ایک قیمتی معجون تیار کیا گیا۔ لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کی ملازمہ بھی بیمار ہے اور اسے بھی اسی معجون کی ضرورت ہے لیکن وہ اسے تیار نہیں کراسکتی تو انہوں نے وہ معجون ملازمہ کو دے دیا۔
سید احمد کو یہی فراخدلی اور دردمندی والدہ سے وراثت میں ملی تھی۔ جب تک وہ دہلی میں منصف رہے اپنی والدہ کے ہاتھوں میں اپنی کمائی کا سرمایہ دیتے رہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ:
’’میں اپنی کل تنخواہ والدہ کو دے دیتا تھا۔ وہ اس میں سے صرف پانچ روپے مہینہ اوپر خرچ کے لیے مجھ کو دے دیتی تھیں۔ باقی تمام اخراجات میرے ان کے ذمہ تھے۔ جو کپڑا وہ بنادیتی تھیں پہن لیتا تھا اور جیسا کھانا وہ کھلاتی تھیں کھالیتا تھا۔‘‘
ذرائع آمدنی میں اضافہ کی خاطر سید احمد نے تصنیف وتالیف اور صحافت کو اپنا ذریعہ بنایا۔ ان کے بڑے بھائی ’’سید الاخبار‘‘ کے نام سے ایک اخبار نکالتے تھے۔ سید احمد نے بھی اس کی اشاعت میں اضافہ کی کوشش کی اور دہلی کے مکانات و اہل مکانات کی تفصیل لکھنے کی ٹھانی۔ لیکن اخبار ہی چند ناگزیر حالات کے سبب بند ہوگیا مگر سید احمد کا مقصد جاری رہا۔ بعد ازاں اپنی تحقیقات کو انہوں نے ’’آثار الصنادید‘‘ کے نام سے ۱۸۴۷ء میں شائع کیا۔ شعر و ادب، صحافت کے ساتھ بعد میں ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی بھی ذمہ داری سنبھالی۔ سید احمد پہلے نثر نگار ہیں جنہوں نے لیتھو کی طباعت کے بجائے اردو ٹائپ کے طریقہ کو قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ انہیں فن طباعت سے گہری دلچسپی تھی۔
مذہبی موضوعات پر کئی ادبی تصانیف لکھ کر انہوں نے ثابت کردیا کہ ان کا علم کتنا وسیع و جامع تھا۔ جلاء القلوب بذکر المحبوب، تحفۂ حسن، کلمہ حسن، کلمہ الحق، راہ سنت در رد بدعت، نمیقہ در بیان مسئلہ تصور شیخ، کیمائے سعادت کا اردو ترجمہ، تبئین الکلام فی تفسیر التورات و الانجیل علی ملہ الاسلام، طعام اہل کتاب، خطبات احمدیہ، تفسیر القرآن، النظر فی بعض مسائل الامام غزالی، ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف و الرقیم، ازالہ الفین عن ذکر القرنین، رسالہ ابطال غلامی، الدعاء و الاستجابہ، تحریر فی اصول التفسیریہ، تمام رسالے سید احمد کی قابلیت و علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ سائنسی، قانونی اور دیگر موضوعات پر ان کی بھی کئی تصانیف موجود ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی سید احمد کے لیے ہمیشہ لمحہ فکر بنی رہی۔ مسلمانوں نے زمانے کی تیز رفتاری کے ساتھ قدم بڑھانے سے انکار کردیا تھا اور ہر دور میں یہی ہوتا رہا۔ مسلم قوم کبھی اپنے طرز و طریقوں سے باہر نکلنا نہیں چاہتی۔ سید احمد نے دن رات اپنی کوششوں سے لوگوں کے ذہن میں تبدیلی لانا شروع کی۔ مراد آباد کا مدرسہ، سائنٹفک سوسائٹی کا قیام، غازی پور کا اسکول، سائنٹفک سوسائٹی کی علی گڑھ منتقلی، زرعی و صنعتی تعلیم، یہ ساری کاوشیں رنگ لانا شروع ہوئیں لیکن اس رنگ کے لیے سید احمد کو ہر طرح کی تکالیف برداشت کرنی پڑی اور کافر کا فتویٰ بھی سہنا پڑا۔ انگریزی زبان و ادب کے رجحانات میں مثبت خیالات رکھنا انہیں کئی معنوں میں مہنگا ثابت ہوا۔ لیکن وہ ہر قیمت پر اپنی قوم کو انگریزوں کے ہم پلہ دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ انہوں نے سالار جنگ کو ایک خط لکھا تھا جس سے ان کی اس خواہش کی شدت کا پتہ چلتا ہے۔
’’آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز کے نمونے پر کمیٹی کی خاص طور پر توجہ اور کوشش ہوگی کہ وہ مدرسہ العلوم کے طلباء میں بھی وہی معیار تعلیم قائم کرے جو ان انگریزی یونیورسٹیوں میں عیسائی عقائد کی تعلیم ہوتی ہے وہاں مدرسہ العلوم میں اسلامی عقائد کی تعلیم دی جائے۔‘‘
۱۸۸۷ء میں لارڈ ڈفرن نے انہیں قابلیت کی بناء پر سول سروس کمیشن کا ممبر مقرر کیا۔ انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ صرف اپنی قوم ہی کی انہیں فکر نہیں تھی بلکہ پورے ہندوستانیوں کی فکر دامن گیر ہوا کرتی تھی۔ آخر وقت تک وہ ہندو مسلم اتحاد کے خواہاں رہے اور خود کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرتے رہے۔ مسلم خواتین کی تعلیم کے تئیں ان کی تڑپ، اپنی قوم کو ترقی کی بلندیوں پر دیکھنے کی آرزو یہ ایسے جذبات تھے کہ آج اگر اسلام میں بت پرستی یا تصویر پرستی کی اجازت ہوتی تو روزانہ ان کی تصویر پورے ہندوستانی مسلمان روزانہ گلہائے عقیدت پیش کریں تو بھی کم ہوگا۔
آخری وقت تک کئی المیے انہیں گھیرے رہے۔ قوم کی فکر اور فلاح و بہبودی میں گھلتے گھلتے انہوں نے ۲۷/ مارچ ۱۸۹۸ء کو آخری سانس لی۔ ان کا جسد خاکی کالج کی مسجد ہی میں دفن کیا گیا۔
صحرا بھی تو ذروں سے ہوا پہلے شروع
پھر ذروں سے ہونے لگے خورشید طلوع
صدیاں میری مٹھی میں کئی بند ملیں
گزرے ہوئے لمحوں سے میں کرتا تھا رجوع
***
نام و پتہ: ہاجرہ بانو
پلاٹ نمبر ۹۳، سیکٹر اے، سڈکو این ۱۳،حمایت باغ،
اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۸۔ 
ریاست مہاراشٹر-
موبائل: 9860733049
E-mail: hajra857@g-mail.com

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: