Home > Urdu News > Is Ruba’i not a poetic form? کیا رباعی تخلیقی صنف نہیں؟

Is Ruba’i not a poetic form? کیا رباعی تخلیقی صنف نہیں؟

حسن فرخ

بعض ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ رباعی تخلیقی صنف نہیں ہے؟اس میں شعریت بھی نہیں ہے اور تخلیقیت کا عنصربھی نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ رباعی کا جواز بس اتنا ہی ہے کہ شاعر  اس کے ذریعہ اخلاقیات اور دینیات کا درس دےیا پھر اپنی قادر الکلامی کا ثبوت پیش کرے۔صرف اتنا ہی نہیں اردو کے نامور اور متنازعہ نقاد کلیم الدین احمد نے اپنی تصنیف اردو شاعری پر ایک نظر  ، حصہ اول میں رباعی کا ذکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہے ۔جبکہ انھوں نے قطعہ پر بڑی تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔اگر چہ قطعہ علیحدہ سے کوی صنف نہیں ہے ۔قطعہ اسے کہتے ہیں        جو دو شعر یا اس سے زیادہ با مطلع یا بلا مطلع ہوں  مگر مضمون میں ایک دوسرے سےمتعلق اور مطلع کے سوا  اور باقی غزل یا ْ قصیدہ کا ایک حصہ  ہوں جو متعلق مضمون اور کم سے کم دو شعروں پر مشتمل ہو ۔ایک عرصہ تک ْقطعہ غزل یا قصیدہ کا ہی حصہ رہا لیکن بعد میں              علیحدہ طور پر  بھی استعمال کیا جانے لگا بہر حال وہ الگ صنف سخن نہیں ہے ۔

غزل کے بر خلاف جو عرب میں پیدا ہوی اور ایران سے ہندوستان آی رباعی ایران میں پیدا ہوی اور ہندوستان آی ۔ رباعی غزل کے بہت بعد کی  صنف ہے۔عام طور پر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ رباعی کا بنیادی وزن  لا  حول ولا قوۃ الا باللہ  ہے  مگر یہ محض           رباعی کے ۲۴ اوزان میں سے ایک ہے بنیادی وزن نہیں ۔یہ وزن ہے :                            مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع

رباعی کے ۲۴ اوزان دینے والے دو بنیادی وزن حسب ذیل ہیں:

                            ۱۔مفعول مفاعلن مفاعیل فعل

                            ۲۔مفعولن مفعول مفاعیل فعل

عام خیال یہ ہے کہ علم عروض مین ماہرانہ درک رکھنے والے پختہ کار شاعر ہی رباعی کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کی باریک تر نزاکت ذرا سی غفلت یا بے احتیاطی سےپامال ہوسکتی ہے۔اس کا دایرہ محدود اور ارکان کثیرالتعداد ہیں جو فن رباعی کو پل صراط بنا دیتے ہیں۔اس لیے اس راہ کے مسافر کو قدم پھونک پھونک کر اور احتیاط  سے اٹھانا پڑتا ہے۔چنانچہ غالب جیسے عظیم شاعر بھی رباعی میں غلطی کا ارتکاب کر چکے ہیں، ان کی رباعی ہے :

                         دکھ جی کے پسند ہوگیا ہے غالب                              دل رک رک کر بند ہوگیا ہے غالب

                               واللہ شب کو نیند آتی ہی نہیں                                     سونا سوگندھ ہوگیا ہے غالب

اس کا دوسرا مصرعہ رباعی کے وزن سے خارج ہے۔سب سے پہلے نظم طباطبای نے شرح دیوان غالب میں یہ بات کہی تھی۔اس کے بعد سخن فہموں اور غالب کے طرف داروں میں خوب خوب بحثیں ہویں۔غلام رسول مہر نے دیوان غالب اور نواے سروش میں  اس میں سے ایک رک نکال دیا جس سے مصرعہ وزن میں آگیا، مگر انھوں نےاس کی متنازعہ حیثیت سے بحث نہیں کی بلکہ اپنی طرف سے تصحیح کردی۔حانکہ مستند یہی ہے کہ غالب نے رک رک کر ہی کہا ہے جو کہ وزن سے خارج ہے۔

رباعی کی بحر بحر ہزج ہےجس کا بنیادی رکن  مفاعیلن ہے،اور اسی مفاعیلن کے مختلف وزن ہی جو مختلف زحافات کے استعمال سے حاصل ہو تے ہیں اس میں لاے جاتے ہیں ۔رباعی  میں دس افاعیل آتے ہیں جو کہ مفاعیلن ہی سے حاصل ہوتے ہیں ۔افاعیل یہ ہیں  :

۱۔مفاعیلن  ۲۔مفاعیل    ۳۔مفعولن   ۴۔مفاعلن   ۵۔مفعول  ۶۔فاعلن  ۷۔فعول  ۸۔فعل    ۹۔فاع   ۱۰۔فع

فعولن اس فہرست میں نہیں ہے، جو کہ مفاعیلن سے حاصل ہونے والاایک انتہای مستعمل رکن ہے ۔وہ رباعی میں نہیں آتا ،اگر آجاے تو رباعی کا وزن خراب ہو جاے گا ۔

کسی بھی مثمن بحر کی طرح رباعی کی بحر کے بھی چار جز ہیں ۔ یعنی :

۱۔ صدر یا ابتدا   ۲، حشو  ۳  ۔ حشو    اور ۴۔عرض یا ضرب

اوپر والے دس افاعیل میں سے جو بھی چار وزن میں استعمال ہوں گے ان کی اس وزن کی تر تیب میں اپنی اپنی جگہ مخصوص ہوگی ۔جیسے

۰ صدر یعنی پہلے رکن میں ہمیشہ مفعول یا مفعولن ہی آے گا ،کوی اور رکن نہیں آسکتا۔

۰ ضرب یعنی چوتھے رکن میں ہمیشہ فع ، فاع ، فعل اور فعول میں سے کوی ایک رکن آے گاکوی اور رکن نہیں آسکتا۔

۰ مفاعلن اور فاعلن ہمیشہ پہلے حشو یعنی دوسرے رکن میں آیین گے اور کسی جگہ نہیں آسکتے۔

۰مفاعیلن اور مفاعیل  دونوں حشو میں یعنی دوسرے اور تیسرے رکن میں آسکتے ہیں کسی اور جگہ نہیں

۰مفاعیلن اور مفاعیل کے علاوہ مفعولن اور مفعول بھی دونوں حشو میں آسکتے ہیں

رباعی کےمختلف افاعیل کی ترتیب یاد رکھنے میں جو کلیہ سب سے اہم ہے وہ مرزا یاس یگانہ چنگیزی کا  ہے جو انھوں نے چراغ سخن میں درج کردیا ہے  یعنی :

                                                                            سبب پے سبب و وتد پے وتد

یہی رباعی کے اوزان کی کنجی ہے یعنی سبب کے بعد ہمیشہ سبب آےگا اور وتد کے بعد وتد ہی آے گا۔

رباعی چونکہ مفعولن یا مفعول سے شروع ہوتی ہے۔ اس لیے اگر فرض کریں کہ رباعی مفعول سے شروع ہو  تو پہلا رکن مفعول ہو گیا ۔اب دوسرے رکن میں جو افاعیل آسکتے ہیں  بنیادی کلیہ کے مطابق سبب کے بعد سبب اور وتد کے بعد وتد  کے مطابق پہلا رکن مفعول ہے جو کہ وتد پر ختم ہوتا ہے اس لیے اگلا رکن لازمی طور پر وتد سے شروع ہوگا ۔فہرست میں جو افاعیل وتد سے شروع ہورہے ہیں وہ ہیں:

                                              مفاعیلن   ، مفاعیل  ،   مفاعلن

یعنی مفعول کے بعد اب سرف ان تین میں سے ایک رکن آے گا ،فرض کریں مفاعیل آیا تو اب دو رکن ہوگیے ،یعنی

                                      مفعول مفاعیل

چونکہ مفاعیلن بھی وتد پر ختم ہورہا ہے اس لیے اگلا رکن بھی وتد ہی سے شروع ہوگا۔یہ پھر تین ہیں یعنی

مفاعیلن ، مفاعیل ،مفاعلن

چونکہ مفاعلن تیسرے رکن میں نہیں آسکتا اس لیے مفاعیلن اور مفاعیل میں سے کوی آے گا۔ فرض کریں مفاعیلن لیا  تو اب تین رکن ہوگیے ، یعنی

مفعول مفاعیل مفاعیلن

اب رہ گیا چوتھا رکن جس میں فع ،فاع ،فعل اور فعول  ۔کلیہ کے مطابق مفاعیلن سبب پر ختم ہورہاہےاسی لیے اگلا رکن سبب سے شروع ہوگا ۔وہ فع ہے ۔ اس طرح رباعی کا وزن مل گیا :

مفعول مفاعیل مفاعیلن فع

 اس کلیے کے مطابق سارے ۲۴ اوزان  حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: