Home > Urdu News > ہر زبان کا ادب اپنی تہذیب کا زائیدہ ہوتا ہے : پروفیسر نارنگ

ہر زبان کا ادب اپنی تہذیب کا زائیدہ ہوتا ہے : پروفیسر نارنگ

امریکہ اور کنیڈا میں عالمی شہرت یافتہ نقاد کی مختلف ادبی تقاریب میں شرکت

Dr Gopichand Narang in Washington with S.O.U.L president Abul Hasan Naghmi

امریکہ، 12 جولائی (پریس ریلیز)۔ ہر زبان کا ادب اپنی تہذیب کا زائیدہ ہوتا ہے۔ کسی بھی ادب کو اس کی تہذیب سے ہٹ کر نہ دیکھا جا سکتا ہے نہ سمجھا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار امریکہ اور کنیڈا کے دورے پر گئے عالمی شہرت یافتہ نقاد و دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ٹورنٹو میں ڈاکٹر خالد سہیل کی فیملی آف ہارٹ کے اراکین کی تقریب ’نروان‘ میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو کی نئی بستیوں میں ہرچندکہ زندگی کے زبردست آثار ہیں لیکن بلند و پست ہر جگہ ہوتا ہے۔ جہاں ادب ہے وہاں اعلیٰ و ادنیٰ سب ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ادب میں رعایتی نمبر نہیں ہوتے۔ بقول منٹو ’ادب یا تو ادب ہے یا ایک بہت بڑی بے ادبی ہے‘۔ ادب میں ڈالر نہیں خونِ جگر کی کشید کا سکّہ چلتا ہے۔ شاعری میں کھرا کھوٹا فقط ادبی قدر و قیمت سے طے ہوتا ہے۔

ٹورنٹو ہی میں انھوں نے اشفاق حسین کی اردو انٹرنیشنل کے زیراہتمام پیرسن کنونشن سنٹر اور علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام واشنگٹن ڈی سی، کراؤن پلازہ میں جاوید اختر کے تازہ مجموعۂ کلام ’لاوا‘ کی رسم اجرا کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور جاوید اختر کی شاعری و شخصیت پر اظہارِخیال کیا۔ علاوہ ازیں اطہر رضوی کی کنیڈین غالب سوسائٹی کی جانب سے ’کوالٹی‘ میں ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں آج کے منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کہا کہ ادھر کئی بڑی شخصیتیں یکے بعد دیگرے اُٹھ گئی ہیں۔ اور ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ خلا سا پیدا ہوگیا ہے۔ فیض احمد فیض، سردار جعفری، مجروح اور منیر نیازی کے بعد قرأۃ العین حیدر، شہریار، صلاح الدین پرویز، مظہر امام اور ساجد رشید بھی نہیں رہے۔ صفیں کی صفیں خالی ہورہی ہیں۔ ادھر عالمی منظرنامے پر بھی نئے چیلنج پیدا ہوچکے ہیں۔ اوّل بڑے پیمانے پر ایشیائی آبادیوں کی نقلِ مکانی، دوم برقیاتی انقلاب اور سوئم بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے ایسے مسائل پیدا کردیے ہیں جو انسانی تہذیب کے لیے کرائسس کا درجہ رکھتے ہیں۔ سب زبانیں ان کی زد میں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اردو چونکہ مخلوط اور بٹی ہوئی زبان ہے اس لیے وہ زیادہ دباؤ میں ہے۔ ایسے میں نوجوان نسل کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ترقی کرنے اور بڑوں کی جگہ لینے کے لیے جہاں زبان اور زبان کی روایت پر قدرت ضروری ہے وہاں آگہی، دلسوزی اور کمٹ منٹ کی بھی ضرورت ہے۔ دریں اثنا واشنگٹن ڈی سی ہی میں سوسائٹی آف اردو لینگویج (ایس او یو ایل) کی طرف سے پروفیسر نارنگ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں سوسائٹی کے صدر ابوالحسن نغمی نے انھیں قطعۂ تہنیت کا پلاک پیش کیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا : ’’عاجز و پنبہ دماں، حیران و ششدر، دم بخود/ ان کا علم و فضل ایسا ہے کہ میں تو دنگ ہوں/ خوبیاں ان کی ہیں رنگارنگ بے حد بے شمار/ انکسار ایسا کہ فرماتے ہیں، میں نارنگ ہوں‘‘۔

Categories: Urdu News
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: