Home > Urdu poems and prose latest > Ibne Insha – tarhi ghazal by Barqi Azmi

Ibne Insha – tarhi ghazal by Barqi Azmi

جدید ادبی تنقیدی فورم کے پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے بسلسلۂ سالگرہ ابنِ انشا بتاریخ ۱۵ جون ۲۰۱۲ کے لئے==احمد علی برقی اعظمی

 دیکھا تھا اسے میں نے کہاں یاد رہے گا

’’وہ حیرت و حسرت کا جہاں یاد رہے گا‘‘

تصویرِ تصور مری آنکھوں میں بسی ہے

وہ مجھ سے نہاں ہو کہ عیاں یاد رہے گا

وہ نقش جو ہے ثبت مرے صفحۂ دل پر

ہر حال میں بے وہم و گماں یاد ریے گا

میں خود سے الگ اس کو سمجھتا تھا ابھی تک

ہے خانۂ دل اس کا مکاں یاد رہے گا

بے کیف شب و روز ہیں وہ جب سے گیا ہے

ہے میری وہی روحِ رواں یاد رہے گا

جائے گا کہاں بچ کے وہ اب میری نظر سے

قدموں کا مجھے اس کے نشاں یاد رہے گا

انشا کا تتبع کوئی آسان نہیں ہے

عظمت کا مجھے اس کی نشاں یاد رہے گا

ہے سالگرہ جس کی وہ دنیا میں نہیں ہے

جو اُس میں تھا وہ عزمِ جواں یاد رہے گا

اس رنگِ تغزل میں تسلسل ہے نمایاں

برقی یہ ترا حُسنِ بیاں یاد رہے گا

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: