Home > Urdu poems and prose latest > Barqi Azmi – ghazal on Shakeel Badauni’s tarah

Barqi Azmi – ghazal on Shakeel Badauni’s tarah

اردو لٹریری فورم کے ہفتہ وار آن لائن  فی البدیہہ مشاعرہ نمبر ۷۰ بتاریخ ۳۱ مارچ ۲۰۱۲ بیادِ شکیل بدایونی کے لئے میری طرحی غزل

احمد علی برقی اعظمی

 

کیا اُس نے کہا مجھ سے ذرا جلد بتا اور

پیغام ترے پاس ہے کیا بادِ صبا اور

 

حد ہوتی ہے اک عرضِ تمنا کی کسی کے

میں تجھ کو شبِ ہجر نہ اب دوں گا صدا اور

 

آ جلوہ گہہِ ناز میں مشتاق ہوں تیرا

دُزدیدہ نگاہی سے نہ اب مجھ کو ستا اور

 

باقی ہے فقط دردِ محبت کی یہ سوغات

اب اِس کے سوا پاس مرے کیا ہے بچا اور

 

یہ تشنگی اک جام سے ہرگز نہ بجھے گی

’’ چکھنے کا مزا اور ہے پینے کا مزا اور‘‘

 

کیوں صرف میں رہتا ہوں ہدف تیرا ہمیشہ

اب اور چلانا نہ اِدھر تیرِ قضا اور

 

آنا ہے تو آ ،ورنہ نہ دے جھوٹی تسلی

برقی کی نہ کر جانِ وفا روح فنا اور

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: