Home > Urdu poems and prose latest > غزل — ڈاکٹر جاوید جمیل

غزل — ڈاکٹر جاوید جمیل

کرتا ہے بیکار کی باتیں، کام  کی کوئی بات نہیں

غیروں جیسی بات ہے تیری، اپنوں جیسی بات نہیں

جام سبھی کے ہاتھوں میں ہے،  ہاتھ ہمارے خالی ہیں

نا انصافی ہونے دینا ساقی اچھی بات نہیں

 محفل میں جسکو بھی دیکھو روٹھا روٹھا لگتا ہے

کڑواہٹ ہے آوازوں میں، کوئی میٹھی بات نہیں

کلمہ تیرا، سپنا تیرا، فکر تری اور تیرا خیال

صرف تری ہی بات زباں پر اور کسی کی بات نہیں

کہنے کو تو کہہ دی تو نے  اپنے دل کی ساری بات

سچائی ہے لیکن یہ کہ یہ بھی ساری بات نہیں

کیسے ملیں ہم تم سے یارو، کیسے بلائیں گھر اپنے

غم ہی غم ہیں پاس ہمارے، کوئی خوشی کی بات نہیں

نا انصافی ہر جانب ہے، ہر سو ظلمت ہی ظلمت

دیکھ کے یہ سب کیوں سب چپ ہیں کہتے حق کی بات نہیں

پہلے کیا کیا کچھ کہہ ڈالا، پھر یہ کہہ کر صاف گئے

کر ڈالی ہے بھول زباں نے، سوچی سمجھی بات نہیں

“تیرے لئے ہی جیتا ہوں اور تیرے لئے ہی مرتا ہوں”

منہ دیکھی جاوید ہیں باتیں، دل سے نکلی بات نہیں

Advertisements
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: