Home > Uncategorized > EID : Short story by Syeda Sarfaraz Fatima Nashtar

EID : Short story by Syeda Sarfaraz Fatima Nashtar

Syeda Sarfaraz Fatima Nashtar was a good  short story writer and has penned several works. Here is a short story written by her for the benefit of readers. (Ataullah Faizan-editor)

عید

سیّدہ سر فراز فا طمہ نشتر خیرابادی

سعادت علی اپنے والِد  وجا ہت علی کی اِکلوتی اولاد تھے۔وجاہت علی کا تعلُق لکھنّو شہر کے ا یک امیر تر ین گھرا نے سے تھا۔ سعادت علی نے بڑے لاڈ و پیار اور عیش میں اپنی آنکھیں کھو لیں تھیں۔ماں باپ نے اُن کی ناز بر دا ریوں میں کوئ کسرَ نہ اُٹھا رکھی تھی۔ لاڈلے اور ریئس زادے ہو نے کی و جہ سے اُن کی ہر خوا ہِش کا  ا ِستقبال کیا جاتا

تھا۔تعلیم کی غرض سے سعادت علی کو ایک اعلیٰ اِسکول میں داخِل کیا گیا تھا۔قرُآن اور حدیث کی تعلیم کے لئے ایک حا فِظ کو مُقرر کر کے گھر  ہی پر اُن کی دینی تعلیم کا

معقول اِنتظام کیا گیا تھا۔ سعادت علی کی عُمر ابھی  گیارہ برس ہی کی تھی کہ اُن کی حسین  فِطرت کے جو ہر نُمایاں ہونے لگے۔

رمضان لمبارک کا مہینہ  تھا۔ سعادت علی بڑے جوش و خروش سے روزے رکھ رہے تھے۔ایک دِن سعادت علی نے اپنے والِد محترم کے  پاس جاکر عرض کیا  کہ ابو جان!  ’’  میں اِس مرتبہ عید کو ایک خاص طریقہ سے منانا چاہتا ہوں۔اِس کے لئے مُجھے روپیوں کی ضرورت ہے۔و جا ہت علی  جو    ہر وقت اپنے بیٹےکی ہر خوشی کو ہر طور پر پوری کر نا چاہتے تھے اُنہوں نے  فورأٔ بخو شی دس ہزار روپیہ کا چیک اپنے لاڈلے بیٹے کو دیتے ہوئے کہا   ’’ برخُردار ! یہ  لیجئے اور  جایئے اپنی  خُواہِش کے مُطابق خرچ کیجئے اور ہاں سُنئے اپنی خریداری کے لئے  غفور میاں کو اپنے ہمراہ ضرور لیتے جایئے‘‘۔

سعادت علی نے  چیک لے کر پیار سے اپنے والِد کے گلے میں با ہیں ڈال دیں اور بڑے ادب کے ساتھ اُن کا شُکر یہ ادا کرکے خوشی خوشی اُچھلتے کودتے اپنے دوست کر یم  الدین کو ساتھ لے کر عید کی تیاری کے لئے پلان بنانے چل دئے۔بیٹے کی یہ کیفیت دیکھ کر و جا ہت علی نے مسُکرا کر اپنی بیگم سے کہا ’’ زُبیدہ بیگم آپ نے دیکھا چیک لے کر ہمارے بَر خُوردار کتِنے خوش نظر آرہے تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عید کے لئے اس کا کیا کرتے ہیں‘‘۔

سعادت علی نے اپنے دوست کریم الدین کے ساتھ مِل کر ایک لمبی چوڑی لِسٹ تیار کی اور اپنے پرُانے مُلازِم غفور میاں کو ساتھ لے کرخریداری کا کام شروع کر دیا۔ایک ہفتہ کی مُسلسل محنت اور دوڑ دھوپ کے بعد اُن کی ساری خریداری مُکمل ہو گئ۔سعادت علی نے اپنا خریدا ہوا سارا سامان ایک خالی کمرے میں جمع کردیا اور اپنے والدین کے پاس جاکر اُن سے گُزارِش کی کہ ’’ابو جان!  امی جان! کیا ہی اچھا ہو کہ آپ دو نوں چل کر میری خریداری کو ایک نظر دیکھ لیں‘‘۔ وجاہت علی نے اپنے بیٹے کے اِسرار پر اپنی بیگم کے ہمراہ حویلی ک اُس کمرے میں پہُنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بے شُمار رنگ برنگ کے پیکٹس جِن پر ’’ عید مُبارک‘‘ کے کارڈز بھی لگے ہوئے ہیں بڑے سلیقہ سے رکھے ہیں۔سعادت علی نے اپنی دِلی خواہِش کا اِظہار کرتے ہوئے اپنے والدین سے درخواست کی کہ ’’ اگر آپ اِجازت دیں تو میں جُمعتہ الوداع سے قبل حَسن پور گاوں جا کر یہ تمام سامان جو میں نے غریب لوگوں کے واسطے خریدا ہے اپنے ہاتھوں سے  اُنہیں تقسیم کر آوں۔تحفوں کے بارے میں سعادت  علی نے آگے بڑھ کر بتایا کہ ابو جان! امی جان! یہ دیکھئے یہ کپڑے مردوں اور عورتوں  کے لئے ہیں اور یہ جو رنگ برنگ کے کپڑے ہیں بچّوں کے لئے ہیں جو عُمرکے لِحاظ سے اُن میں تقسیم کر  دیئے جایں گے۔بطور عیدی میں نے دس دس روپیے بچّوں کے کپڑوں کے پیکِٹس میں اور سو سو روپیہ عورتوں اور مردوں کے کپڑوں کے  پیکِٹس میں لِفافوں میں رکھ دیئے ہیں اورابو جان یہ خاکی تھیلے جو آپ دیکھ رہے ہیں اُن میں سویاں،میوہ، شکر اور گھی کے ڈبے رکھے ہیں اور یہ تین جوڑے بادامی،سُرمئ اور فاختائ رنگ کے جو سب سے علیحدہ رکھے ہیں اُن میں سے ایک غفور چا چا کا، دوسرا ڈرایئور صاحب کا اور  تیسرا حافِظ جی کے لئے ہے۔میری طرف سے یہ تینوں کا تحفہ ہے‘‘۔ ابو جان میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتِنا خوش ہوں‘‘۔ دوسروں کے دِلوں کو خوشی دے کر میں حقیقی معنوں میں عید مناوں گا۔آپ کا بہُت بہُت شکُریہ کہ آپ نے میری اِس خواہِش کو پورا کرنے میں میری مدد فر مائ‘‘۔

وجاہت علی اور زُبیدہ بیگم اپنے بیٹے کی اِس عُمر میں ایسی باتوں کو سُن کرششد رہ گئے۔ اُن کا دِل خوشی سے بھر گیا۔زُبیدہ بیگم نے اپنے بیٹے کی پیشانی پر بو سہ دیا اور بلایئں لیں۔وجاہت علی نے فرطِ محبت اور مسرت سے سرشار ہوکر سعادت علی کو سینے سے لگا لیا۔ اُن کی آنکھوں سے شُکر کےآنسو جاری ہو گئے۔اور سینہ فخر سے پھول گیا۔کہنے لگے’’ بر خوردار! آپ کے اِس کام سے جو خوشی ہمارے دِل کو ہوئ ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گرین اِسٹریٹ پر جو ہمارا نیا ہو ٹل’’جنّت‘‘ تعمیر ہو رہا ہے اُس کی آمدنی کا ایک بڑا حِصّہ اکاونٹ میں آپ کے لئے جمع کر دیا جا یا کرےگا تا کہ آپ اپنی ایسی نیک خواہِشوں کو بروئے کار لا سکیں‘‘۔سعادت علی نے کہا  ’’ ابو جان!اِس کام میں میرے دوست کریم الدین نے بھی میری بہت مدد کی ہے‘‘۔ وجاہت علی نے کریم الدین کو بھی گلے سے لگا لیا اور دُعایئں دیں۔

جیسے ہی وجاہت علی اپنی بیگم کے ہمراہ کمرے سے باہر نِکلے دونوں دوست خوشی سے بغل گیر ہو گئے۔سعادت علی نے کریم سے کہا   ’’چلو کریمو، چل کر دو  رکعت نمازِ شکُرانہ ادا کرتے ہیں کیوں کہ ہر نیکی کی تو فیق،طاقت اور موقع صِرف اللہ ہی کی طرف سے مِلتا ہے‘‘۔

…………………………………………………………………………………………………………

Advertisements
Categories: Uncategorized
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: